🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. إذا رأيت الخلافة نزلت الأرض المقدسة دنت الزلازل
جب تم خلافت کو ارضِ مقدسہ (شام) میں اترتے دیکھو تو سمجھ لو کہ زلزلے قریب آ گئے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8514
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن ضَمْرة بن حبيب، أنَّ ابن زُغْب الإيادي حدَّثه، قال: نزل (1) علي عبد الله بن حَوَالةَ الأَزْدي، فقال لي وإنَّه لنازل عليَّ في بيتي -: لا أُمّ لك، أما يكفي ابنَ حَوَالة مئةٌ تجري عليه في كلِّ عام؟! ثم قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ حول المدينة على أقدامنا لِنَعْنَمَ، فَرَجَعْنا ولم نَغنَمْ وعَرَفَ الجَهْدَ في وجوهنا، فقام فينا فقال:"اللهم لا تكلهم إليَّ فأضعُفَ عنهم، ولا تَكِلْهم إلى أنفسهم فيعجزوا عنها، ولا تكلهم إلى الناس فيستأثروا عليهم"، ثم قال:"لتَفتَحُنَّ الشام وفارس - أو الروم وفارس - حتى يكون لأحدكم من الإبل كذا وكذا، ومن البقر كذا وكذا، وحتى يُعطى أحدكم مئة دينار فيَسخَطَها"، ثم وَضَعَ يَدَه على رأسي وعلى هامتي، فقال:"يا ابنَ حَوَالة، إذا رأيت الخلافة قد نزلت الأرض المقدَّسة، فقد دَنَتِ الزلازل والبلايا والأمورُ العِظام، للسَّاعةُ يومئذٍ أقرب للناس من يدي هذه من رأسك هذا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه، وعبد الرحمن بن زُغب الإيادي معروف في تابعي أهل مصر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8309 - صحيح
ابن زغب ایادی فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن حوالہ الازدی کے پاس گیا، انہوں نے مجھے کہا: میں آپ کے پاس آنا ہی چاہتا تھا، تیری ماں نہ رہے، کیا ابن حوالہ کو وہ 100 (دراہم) کافی نہیں ہیں جو ہر سال ان کو جاری کئے جاتے ہیں، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مدینہ کے اردگرد بھیجا تاکہ ہم کوئی غنیمت لے کر آئیں، ہم بغیر کوئی غنیمت لیے واپس آ گئے، اور ہمارے چہروں سے تھکاوٹ کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں یوں دعا مانگی اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا، وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ اے اللہ! ان کو میرے آسرے پر نہ چھوڑنا کہ میں ان کا بوجھ نہ اٹھا سکوں، اور ان کو ان کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ یہ اس سے بھی عاجز آ جائیں گے، اور ان کو لوگوں کے آسرے پر بھی نہ چھوڑنا کہ لوگ ان پر غالب آ جائیں گے۔ پھر فرمایا: تم ضرور ضرور شام اور فارس کو یا (شاید فرمایا) روم اور فارس کو فتح کر لو گے، حتی کہ تم میں سے ہر ایک کے پاس اتنے اتنے اونٹ اور اتنی اتنی گائیں ہوں گی، حتی کہ کسی کو ایک سو دینار دیئے جائیں گے تو وہ اس (کے کم ہونے پر) ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت اس پاک سرزمین سے جا چکی ہے، تو سمجھ لینا کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات عنقریب ہونے والے ہیں، اس وقت قیامت لوگوں کے اس سے بھی زیادہ قریب ہو گی جتنا یہ ہاتھ اس سر کے قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبدالرحمن بن زغب الایادی معروف تابعی ہیں، اہل مصر میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8514]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8514 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: نزلت، والمثبت من مصادر التخريج، وهو الصواب ليتوافق مع الكلام لاحقًا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "نزلت" ہے، جبکہ جو ہم نے متن میں لکھا وہ تخریج کے مصادر سے لیا گیا ہے، اور وہی درست ہے تاکہ بعد میں آنے والے کلام کے ساتھ مطابقت ہو سکے۔
(2) إسناده حسن، ابن زغب الإيادي - واسمه عبد الله، وانفرد المصنف فسماه عبد الرحمن - روى عنه اثنان: ضمرة وعبد الرحمن بن عائذ كما في "معرفة الصحابة" لأبي نعيم 3/ 1664، وهو مختلف في صحبته، والراجح لدينا أنه تابعي من أهل حمص، والله تعالى أعلم، وباقي رجال الإسناد ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابن زغب الایادی" (جن کا نام عبد اللہ ہے، اور مصنف نے تفرد کرتے ہوئے انہیں عبد الرحمن نام دیا ہے)؛ ان سے دو راویوں نے روایت لی ہے: ضمرہ اور عبد الرحمن بن عائذ، جیسا کہ ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابۃ" (3/ 1664) میں ہے۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے، اور ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ وہ اہل حمص میں سے "تابعی" ہیں، واللہ اعلم۔ سند کے باقی رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 37/ (22487) عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد. وتضعيفه هناك بتفرد معاوية بن صالح به تعنت لا مسوغ له، والله أعلم. وأخرجه أبو داود (2535) من طريق أسد بن موسى، عن معاوية بن صالح به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے (37/ 22487) عبد الرحمن بن مہدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: وہاں اس روایت کو "معاویہ بن صالح" کے تفرد کی وجہ سے ضعیف قرار دینا ایک ایسا تشدد (تعنت) ہے جس کا کوئی جواز نہیں، واللہ اعلم۔ اور اسے ابوداؤد (2535) نے اسد بن موسیٰ کے طریق سے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے۔
والأرض المقدَّسة: هي بيت المقدس وما حوله.
📝 نوٹ / توضیح: "الارض المقدسۃ" (مقدس سرزمین) سے مراد بیت المقدس اور اس کا گرد و نواح ہے۔