المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. قول النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - " لتتركن المدينة على خير ما كانت "
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جاؤ گے
حدیث نمبر: 8515
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري، حدثنا أبو قلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن صالح بن أبي عريب، عن كثير بن مُرَّة، عن عوف بن مالك الأشجعي: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عليهم وأَقْناءُ مَعلَّقةٌ، وقِنوٌ منها حَشَفٌ، ومعه عصًا، فطَعَنَ بالعصا في القِنْو، قال:"لو شاءَ ربُّ هذه الصدقة فتصدَّق بأطيب منها، إنَّ صاحب هذه الصدقةِ يأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة"، ثم أقبَلَ علينا فقال:"أما والله يا أهل المدينة لَتدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعوافي" قلنا: الله ورسوله أعلم، ثم قال رسول الله ﷺ:"أتدرون ما العوافي؟" قالوا: لا، قال:"الطيرُ والسباع" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8310 - صحيح
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، کھجوروں کے گچھے، لٹک رہے تھے، ان میں سے ایک گچھہ ردی کھجوروں کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عصا مبارک تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گچھے میں اپنا عصا مارا، اور فرمایا: یہ گچھہ جس نے صدقہ دیا ہے، وہ اگر چاہتا تو اس سے اچھا بھی دے سکتا تھا، اس کا مالک قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مدینے والو! تو اس کو چالیس سال تک عوافی کے لئے کھلا چھوڑ دو گے۔ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پتا ہے کہ عوافی کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندوں اور درندوں کو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8515]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8515 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل شيخ المصنف وصالح بن أبي عريب. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند مصنف کے شیخ اور "صالح بن ابی عریب" کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو قلابہ سے مراد "عبد الملک بن محمد الرقاشی" ہیں، اور ابو عاصم سے مراد "ضحاک بن مخلد" ہیں۔
وقد سلف عند المصنف برقم (3163) من طريقين آخرين عن أبي عاصم.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں نمبر (3163) کے تحت ابو عاصم سے دو دیگر طریقوں سے گزر چکی ہے۔