🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. قول النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - " لتتركن المدينة على خير ما كانت "
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جاؤ گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8516
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرُو، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يونس بن يوسف بن حِمَاس، عن عمّه، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"لتُترَكَنَّ المدينةُ على خيرِ ما كانت، العَوَافِي تأكلها؛ الطَّيرُ والسِّباعُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يخرجاه. فليعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ حذيفة بن اليَمَان صاحب سر رسول الله ﷺ، وكان يقول: كان الناسُ يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسأله عن الشرِّ مخافة أن أقع فيه (1) ، وقد يَخفَى على الأعلم مجلسٌ من العلم لبعض (2) عِلَّة ذلك الجنس، وقد خَفِيَ على حذيفة الذي يُخرِج أهل المدينة من المدينة وعَلِمَه غيره (3) . وقد اتفق الشيخان ﵄ على حديث شُعبة، عن عَدِيّ بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن حذيفة أنه قال: أخبرني رسول الله ﷺ بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فما منه شيء إلا وقد سألته عنه، إلا أني لم أسأله ما يُخرِجُ أهل المدينة من المدينة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8311 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مدینہ جس حالت پر پہلے تھا اس سے بھی اچھی حالت میں چھوڑا جائے گا، اس کو پرندے اور درندے کھائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس علم کے طلبگار کو جان لینا چاہئے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: لوگ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تاکہ مجھے اس کا پتا چل جائے اور میں اس میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤں، بعض اوقات علم کی کسی مجلس میں ہونے والی علم کی باتیں بعض وجوہات کی بناء پر رہ بھی جاتی تھیں اور سیدنا حذیفہ کو وہ خبر نہ ملی جس میں یہ تھا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے نکال دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے بہت سارے لوگوں کو یہ حدیث معلوم تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو قیامت تک ہونے والا ہے، اور یہ سب کچھ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، صرف ایک بات نہیں پوچھی تھی کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کیوں نکالا جائے گا؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8516]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8516 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين في المتابغت والشواهد، رجاله ثقات معروفون غير عمِّ ابن حِماس فإننا لم نقف له على ترجمة، لكن الراوي عنه - وهو ابن أخيه - ثقة، وخرَّج له مالك هذا الحديث في "موطئه" 2/ 888، فحاله مقارب إن شاء الله.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند متابعات و شواہد کی صورت میں "حسن" قرار دیے جانے کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال ثقہ اور معروف ہیں سوائے "ابن حماس کے چچا" کے، کہ ہمیں ان کے حالات (ترجمہ) نہیں مل سکے، لیکن ان سے روایت کرنے والا (ان کا بھتیجا) ثقہ ہے۔ امام مالک نے "الموطا" (2/ 888) میں ان کی یہ حدیث تخریج کی ہے، لہٰذا ان کا حال "مقارب" (قابل قبول حد تک) ہے، ان شاء اللہ۔
وأخرجه ابن حبان (6773) من طريق أحمد بن أبي بكر، عن مالك، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 12 / (7193) و 14 / (8999)، والبخاري (1874)، ومسلم (1389)، وابن حبان (6772) من طريق ابن شهاب الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة. وبعضهم يذكر فيه قصة حشر الراعيين التي ستأتي عند المصنف برقم (8904).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (6773) نے احمد بن ابی بکر کے طریق سے، امام مالک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور احمد (12/ 7193، 14/ 8999)، بخاری (1874)، مسلم (1389) اور ابن حبان (6772) نے ابن شہاب زہری کے طریق سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ بعض راویوں نے اس میں "دو چرواہوں کے حشر" کا قصہ بھی ذکر کیا ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (8904) پر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 15/ (9067) من طريق حماد، عن أبي المهزّم، عن أبي هريرة. وأبو المهزم ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15/ 9067) نے حماد کے طریق سے، ابو المہزم سے اور انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (نوٹ: ابو المہزم ضعیف ہے)۔
(1) هذا قطعة من حديث رواه البخاري (3606) و (7084) ومسلم (1847) وغيرهما، وقد سلف عند المصنف برقم (391).
📝 نوٹ / توضیح: یہ اس حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جسے بخاری (3606، 7084) اور مسلم (1847) وغیرہما نے روایت کیا ہے، اور یہ مصنف کے ہاں نمبر (391) پر گزر چکا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: بعض، بلا لام، وهو خطأ.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ "بعض" (بغیر لام کے) ہے، جو کہ غلطی ہے۔
(3) لعله يشير إلى ما رواه يحيى بن أبي كثير عن أبي جعفر المؤذن: أنه قيل لأبي هريرة: من يخرجهم يا أبا هريرة؟ قال: أمراء السُّوء. أخرجه ابن شبة في "تاريخ المدينة" 1/ 277 - 278.
📝 نوٹ / توضیح: شاید ان کا اشارہ اس روایت کی طرف ہے جو یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو جعفر المؤذن سے روایت کی ہے کہ: حضرت ابو ہریرہ سے پوچھا گیا: اے ابو ہریرہ! انہیں (مدینہ سے) کون نکالے گا؟ فرمایا: "برے حکمران۔" اسے ابن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (1/ 277-278) میں روایت کیا ہے۔
(4) هو في "صحيح مسلم" برقم (2891) (24)، ولم يخرجه البخاري.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "صحیح مسلم" میں نمبر (2891 / 24) پر موجود ہے، اور امام بخاری نے اسے تخریج نہیں کیا۔