🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. سيأتي زمان يخير فيه الرجل بين العجز والفجور
عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو بے بسی اور گناہ گاری کے درمیان انتخاب کرنا پڑے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8557
حدَّثَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد بن العوّام، عن داود بن أبي هند، عن سعيد بن أبي جَبيرة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"سيأتي على الناسٌ زمان يُخيَّر فيه الرجلُ بين العَجْزِ والفُجور، فمن أدرك منكم ذلك الزمان فليخترِ العجز على الفجور" (2) .
داؤد ابن ابی ہند، سعید بن ابی خیرہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا، کہ آدمی کو عجز اور گناہ میں سے کوئی ایک چیز اختیار کرنے کو کہا جائے گا، جو شخص وہ زمانہ پائے، اس کو چاہئے کہ وہ گناہ پر عجز کو ترجیح دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8557]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8557 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف شاذٌّ لمخالفة عباد بن العوام جمعًا من ثقات أصحاب داود بن أبي هند في تسمية شيخه كما هو مبيَّن في الحديث السابق، وسعيد بن أبي جبيرة هذا لا يعرف إلا في هذا الحديث عند المصنف، ولم نقف له على ترجمة، وفي هذه الطبقة من شيوخ داود سعيدُ بن أبي خَيْرة، إلّا أنَّ هذا لم يدرك أبا هريرة، ولا يروي عنه إلا بواسطة الحسن البصري، ولا يؤثر توثيقه إلّا عن ابن حبان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف اور شاذ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عباد بن العوام کا داود بن ابی ہند کے ثقہ شاگردوں کی جماعت کی مخالفت کرنا ہے جو شیخ کا نام لینے میں ہوئی، جیسا کہ پچھلی حدیث میں بیان ہوا۔ نیز یہ سعید بن ابی جبیرہ مصنف کے ہاں صرف اسی حدیث میں پہچانا گیا ہے، ورنہ ہمیں اس کے حالات (ترجمہ) نہیں ملے۔ داود کے شیوخ کے اسی طبقے میں ایک "سعید بن ابی خیرہ" بھی ہیں، مگر انہوں نے ابو ہریرہ کو نہیں پایا اور وہ ان سے حسن بصری کے واسطے کے بغیر روایت نہیں کرتے، اور ان کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی سے منقول نہیں ہے۔