🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. سيأتي زمان يخير فيه الرجل بين العجز والفجور
عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی کو بے بسی اور گناہ گاری کے درمیان انتخاب کرنا پڑے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8558
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، حدثني أبو الزاهرية، عن كَثير بن مُرَّة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"ليَعْشَينَّ أمَّتي من بعدي فتنٌ كقِطَع الليلِ المُظلِم، يُصبحُ الرجلُ فيها مؤمنًا ويُمسي كافرًا، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ كافرًا، يبيعُ أقوامٌ دينَهم بعَرَضٍ من الدنيا قليلٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده الحديث الذي يعرِّف هذا المتنَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8354 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میری امت کو فتنے ایسے ڈھانپ لیں گے جیسے تاریک رات کا اندھیرا ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس فتنے میں بندہ صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو چکا ہو گا یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو چکا ہو گا، لوگ دنیا کی تھوڑی سی دولت کے عوض اپنا دین بیچ دیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے، اس کا متن یہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8558]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8558 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن صالح: وهو كاتب الليث أبو الزاهرية هو حدير بن كريب الحضرمي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، اور یہ سند متابعات و شواہد میں حسن درجہ رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عبداللہ بن صالح ہیں (جو لیث بن سعد کے کاتب ہیں)۔ اور ابو الزاہریہ سے مراد حدیر بن کریب الحضرمی ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14118)، و "مسند الشاميين" (1959) من طريق محمد بن أيوب بن عافية بن أيوب، عن جدِّه عافية، عن معاوية بن صالح بهذا الإسناد. ومحمد بن أيوب لم نقف على حاله، وأما جدُّه عافية بن أيوب فقد قال أبو زرعة الرازي - كما في "الجرح والتعديل" 7/ 44 - : هو مصري ليس به بأس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (14118) اور "مسند الشامیین" (1959) میں محمد بن ایوب بن عافیہ بن ایوب کے طریق سے، انہوں نے اپنے دادا عافیہ سے، اور انہوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن ایوب کے حالات ہمیں معلوم نہیں ہو سکے، البتہ ان کے دادا عافیہ بن ایوب کے بارے میں ابو زرعہ الرازی نے فرمایا (جیسا کہ "الجرح والتعدیل" 7/ 44 میں ہے): وہ مصری ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں (لیس بہ بأس)۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند أحمد 13 / (8030)، ومسلم (118)، وغيرهما.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث بطور شاہد ہے جو مسند احمد 13/ (8030)، صحیح مسلم (118) اور دیگر کتب میں موجود ہے۔
وحديث أنس التالي، وحديث أبي موسى الآتي برقم (8564)، وحديث النعمان بن بشير السالف برقم (6393).
🧩 متابعات و شواہد: نیز حضرت انس کی اگلی حدیث، ابو موسیٰ اشعری کی آنے والی حدیث نمبر (8564) اور نعمان بن بشیر کی گزری ہوئی حدیث نمبر (6393) بھی اس کے شواہد میں شامل ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (8647).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو آگے نمبر (8647) پر آ رہا ہے اسے ملاحظہ کریں۔
والعَرَض: المال والمتاع، ويسمى عرضًا لأنه عارض يَعرِضُ وقتًا ثم يزول ويفني.
📝 نوٹ / توضیح: "العَرَض" سے مراد مال اور سامان ہے، اسے عرض اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عارضی ہوتا ہے، کچھ وقت کے لیے ظاہر ہوتا ہے پھر زائل اور فنا ہو جاتا ہے۔