🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. ليعودن الأمر كما بدأ حتى يكون كل إيمان بالمدينة
دین کا معاملہ ویسے ہی لوٹ آئے گا جیسے شروع ہوا تھا، یہاں تک کہ سارا ایمان مدینہ میں سمٹ آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8609
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن عُروة بن الزبير، عن كُرْز بن علقمة الخُزاعي قال: قال أعرابي: يا رسول الله، هل للإسلام منتهى؟ قال:"نعم، أيُّما أهل بيتٍ من العرب والعجم أراد الله بهم خيرًا، أدخل عليهم الإسلام" قالوا: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال:"ثم تقعُ فتنٌ كأنها الظُّلل" قال: فقال أعرابي: كلَّا يا رسول الله! فقال النبي ﷺ:"والذي نفسي بيده، لَتَعودُنَّ فيها أَساوِدَ صُبًّا، يَضربُ بعضكم رقاب بعض" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (2) .
سیدنا علقمہ خزاعی بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اسلام کی کوئی انتہاء بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ عرب و عجم میں جس گھرانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرمائے گا، اس میں اسلام داخل فرما دے گا، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کالی گھٹاؤں کی مانند فتنے آئیں گے، اس دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا واقعی ایسا ہو گا؟ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم دوبارہ الگ الگ جماعتوں میں بٹ جاؤ گے اور ایک دوسرے کی گردن مارو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8609]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8609 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن عبّاد الدَّبَري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 راوی کی تعیین: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن عباد الدبری ہیں۔
وأخرجه أحمد 25/ (15918) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 تخریج: اسے احمد 25/ (15918) نے عبد الرزاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (15919)، وابن حبان (5956) من طريق عبد الواحد بن قيس، عن عروة، به - وزاد في آخره: "وأفضل الناس يومئذٍ مؤمن معتزل في شعب من الشعاب، يتقي ربَّه، ويدع الناس من شره".
📖 تخریج: اسے احمد (15919) اور ابن حبان (5956) نے عبد الواحد بن قیس عن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے، اور آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: "اس دن بہترین انسان وہ مومن ہوگا جو کسی گھاٹی میں گوشہ نشین ہو، اپنے رب سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔"
وقد سلف الحديث مختصرًا برقم (96) و (97).
🧾 حوالہ: یہ حدیث مختصر طور پر نمبر (96) اور (97) پر گزر چکی ہے۔
قوله: "أساود صُبًّا" أي: حيات عظيمة إذا أرادت أن تنهش أو تلدغ رفعت صدورها ثم انصبت على الملدوغ، وهذا من باب التشبيه.
📝 لغوی تحقیق: "أساود صُبًّا" سے مراد بڑے سانپ ہیں، جب وہ ڈسنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اپنے سینے اٹھاتے ہیں اور پھر ڈسے جانے والے پر گر پڑتے (ٹوٹ پڑتے) ہیں؛ یہ تشبیہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔
(2) زاد في (ب): بهذه السياقة، وليست في (ك) و (م).
📝 نسخوں کا اختلاف: نسخہ (ب) میں "بِہذہِ السیاقۃ" (اس سیاق کے ساتھ) کا اضافہ ہے، جو نسخہ (ک) اور (م) میں نہیں ہے۔