المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. التناكح فى الطرق من علامات الساعة
راستوں میں اعلانیہ بدکاری کا ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے
حدیث نمبر: 8613
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا هشام بن علي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا عِمران القَطَّان، عن قتادة، عن عبد الرحمن بن آدم، عن عبد الله بن عمرو (2) قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث الله ريحًا لا تدعُ أحدًا في قلبه مثقالُ ذَرَّةٍ من تُقًى أو نُهًى إلَّا قَبَضَتْه، ويلحقُ كلُّ قوم بما كان يعبد آباؤُهم في الجاهلية، ويبقى عَجَاجٌ من الناس، لا يأمرون بمعروفٍ ولا يَنهَوْنَ عَن مُنكَر، يتناكحون في الطُّرُق كما تتناكحُ البهائم، فإذا كان ذلك اشتدَّ غضب الله على أهل الأرض فأقامَ الساعة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8407 - موقوف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8407 - موقوف
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا، جو ایسے کسی آدمی کو زندہ نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا۔ اور ہر قبیلہ اس عقیدے کی طرف لوٹ جائے گا، جو ان کے آباؤاجداد زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے، ٹیڑھے قسم کے لوگ باقی بچ جائیں گے، نہ یہ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے روکیں گے، جانوروں کی طرح گلیوں بازاروں میں زنا کریں گے، جب یہ حالات پیدا ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا غضب زمین والوں پر بہت شدید ہو جائے گا، تب قیامت قائم ہو جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8613]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8613 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ك) و (م): عمر، بلا واو، وهو خطأ، وجاء على الصواب في (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ك) اور (م) میں راوی کا نام "عمر" (بغیر واؤ کے) لکھا گیا ہے جو کہ غلط ہے، جبکہ نسخہ (ب) میں یہ نام درست (عمرو) درج ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عمران القطان - وهو ابن داور - وعبد الرحمن بن آدم. هشام بن علي: هو السيرافي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ "عمران القطان" (جو ابن داور ہیں) اور "عبدالرحمن بن آدم" کی موجودگی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ہشام بن علی سے مراد "ہشام بن علی سیرافی" ہیں۔
وسيأتي عند المصنف مختصرًا برقم (8880) من طريق عمرو بن مرزوق عن عمران القطان.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے مختصر الفاظ میں نمبر (8880) پر آئے گی، جو کہ "عمرو بن مرزوق" کے طریق سے "عمران القطان" سے مروی ہے۔
وهذا الخبر لم نقف عليه من هذا الوجه عند غير المصنف، وقد روي معناه من غير وجه عن عبد الله بن عمرو، فانظر ما سلف برقم (8545) وما سيأتي برقم (8615) و (8616) و (8846) و (8867).
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمیں یہ روایت اس سند (طریق) کے ساتھ مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی، البتہ اس کا مفہوم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے دیگر اسانید سے مروی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: تفصیل کے لیے دیکھیے جو پیچھے نمبر (8545) پر گزر چکا اور جو آگے نمبر (8615)، (8616)، (8846) اور (8867) پر آئے گا۔
وروي آخره في التناكح في الطرق من حديث أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عبد الله بن عمرو مرفوعًا قال: "لا تقوم الساعة حتى تتسافدوا في الطريق تسافد الحمير"، أخرجه ابن حبان (6767)، وإسناده صحيح.
🧾 تفصیلِ روایت: اس حدیث کا آخری حصہ (راستوں میں اعلانیہ صحبت کے بارے میں) حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف کی روایت سے مروی ہے جو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے بیان کی اور وہ نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم راستوں میں گدھوں کی طرح اعلانیہ جفتی (صحبت) نہ کرنے لگو"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6767) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
ويشهد له حديث النواس بن سِمعان مرفوعًا الآتي عند المصنف برقم (8718).
🧩 متابعات و شواہد: اس مفہوم کی تائید (شاہد) حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کرتی ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (8718) پر آرہی ہے۔
ويشهد لأوله - غير حديث أبي هريرة السابق - حديثُ عائشة السالف برقم (8586).
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے ابتدائی حصے کے لیے (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کے علاوہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث بھی بطور شاہد ہے جو پیچھے نمبر (8586) پر گزر چکی ہے۔