🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. تخرج الدابة ومعها عصى موسى ، وخاتم سليمان
دابۃ الارض کا خروج ہوگا جس کے پاس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8704
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد، عن (2) عليِّ بن زيد، عن أَوس بن خالد، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تخرجُ الدابةُ ومعها عصا موسى وخاتَمُ سليمان، فتَجلُو وجهَ المؤمن بالعصا، وتَخطِمُ أنفَ الكافر بالخاتَم، حتى إنَّ أهل الخِوَانِ يجتمعون، فيقول هذا: يا مؤمنُ، وهذا: يا كافرُ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8494 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دابہ نکلے گا، اس کے پاس سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہو گا، سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہو گی، وہ مومن کے چہرے کو عصا کے ساتھ چمکا دے گا، اور انگوٹھی کے ساتھ کافر کی ناک پر زخم لگائے گا حتی کہ کچھ لوگ دسترخوان پر جمع ہوں گے تو کچھ اس کو یا مومن کہہ کر پکاریں گے اور کچھ اس کو یا کافر کہہ کر پکاریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8704]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8704 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد - وهو ابن جُدْعان - وجهالة شيخه أوس بن خالد، ومحمد بن مسلمة ليِّن الحديث إلَّا أنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وجہ ضعف "علی بن زید" (ابن جدعان) کا ضعیف ہونا، اور ان کے شیخ "اوس بن خالد" کا مجہول ہونا ہے۔ نیز "محمد بن مسلمہ" لین الحدیث (کمزور) ہیں، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه أحمد في "مسنده" 13/ (7937) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد أيضًا 13 / (7937) و 16 / (10361)، وابن ماجه (4066)، والترمذي (3187) من طرق عن حماد بن سلمة به.
🧩 متابعات و شواہد: چنانچہ اسے امام احمد نے "مسند" (13/ 7937) میں یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز اسے امام احمد نے (13/ 7937) اور (16/ 10361)، ابن ماجہ (4066) اور ترمذی (3187) نے حماد بن سلمہ سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "تجلو وجه المؤمن" أي تنوّره، و"تخطم أنف الكافر" أي: تَسِمُه وتكويه، والخِوان: هو ما يوضع عليه الطعام.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول: "تجلو وجه المؤمن" یعنی وہ مومن کے چہرے کو روشن کرے گا۔ اور "تخطم أنف الكافر" یعنی وہ کافر کی ناک پر نشان لگائے گا اور اسے داغ دے گا۔ اور "الخِوان": وہ برتن (یا دسترخوان) جس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔