🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. مذاكرة الأنبياء فى أمر الساعة
قیامت کے معاملے میں انبیاء علیہم السلام کی باہمی گفتگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8711
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد الذُّهْلي، حدثنا، أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن أبي رافع، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ في السَّدِّ، قال:"يَحفِرونَه كلَّ يوم، حتى إذا كادوا يَخرِقُونه قال الذي عليهم: ارجِعوا فستَخرِقونه غدًا، قال: فيعيدُه الله ﷿ كأشدِّ ما كان، حتى إذا بَلَغُوا مُدَّتَهم وأراد الله، قال الذي عليهم: ارجِعوا فستَخرِقونه غدًا إن شاءَ الله، واستَثْنى؛ قال: فيَرجِعون وهو كهَيئتِه حين تركوه، فيَخرِقونه ويَخرُجون على الناس، فيَستَقُون (1) المياهَ ويَفِرُّ الناسُ منهم، فيَرمُون سِهامَهم في السماء، فتَرجِعُ مُخضَبَةً بالدماء فيقولون: قَهَرْنا أهلَ الأرض وغَلَبْنا مَن في السماء، قسوةً وعُلّوًا؛ قال: فيَبعَثُ الله ﷿ عليهم نَغَفًا في أقْفائهم؛ قال: فيُهلِكُهم؛ قال: فوالَّذي نفسُ محمدٍ بيدِه، إنَّ دوابَّ الأرضِ لَتَسْمَنُ وتَبطَرُ وتَشكَرُ شَكَرًا -أو تَسكَر سَكَرًا- من لحومِهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8501 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دیوار کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے وہ (یاجوج و ماجوج) روزانہ اس کو کھودیں گے، جب وہ بالکل گرنے والی ہو گی تو ان کا نگران ان سے کہے گا کہ اب واپس چلو اور جو بچ گئی ہے وہ کل کھودیں گے، اگلے دن اللہ تعالیٰ اس کو پوری کر دے گا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو گی، ان کا سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، جب ان کے نکلنے کا وہ وقت آ جائے گا جو اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے تو شام کے وقت واپس لوٹتے ہوئے ان کا نگران کہے گا: اب جو بچ گئی ہے وہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ کل کھودیں گے، یہ لوگ واپس آ جائیں گے، اگلے دن جب اس دیوار کے پاس جائیں گے تو وہ اتنی ہی ہو گی جتنی کل شام چھوڑ کر گئے تھے، وہ دیوار توڑیں گے، اور لوگوں پر حملہ آور ہوں گے، یہ سب پانی پی جائیں گے، لوگ ان سے بھاگیں گے، یہ اپنے تیر آسمان کی جانب پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ کہیں گے: ہم نے زمین والوں پر بھی غلبہ پا لیا ہے اور آسمان والوں پر بھی ہمیں غلبہ اور طاقت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گردن کی پچھلی جانب ایک کیڑا پیدا فرمائے گا جس کی وجہ سے یہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، زمین کے جانور موٹے ہو جائیں گے، تروتازہ ہو جائیں گے، وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے، اور ان کے گوشت کھانے سے نشہ آئے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8711]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8711 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: فيسقون، والمثبت من المطبوع، وهو أوجهُ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "فیسقون" ہے، جبکہ یہاں (مثبت) متن مطبوعہ نسخے سے لیا گیا ہے اور وہی زیادہ موزی (اوجه) ہے۔
(2) رجاله عن آخرهم ثقات، إلّا أن الحافظ ابن كثير استنكر رفعه إلى النبي ﷺ كما في "تفسيره" 5/ 194، ومال إلى أنه من رواية أبي هريرة عن كعب الأحبار! فالله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند کے تمام رجال (شروع سے) آخر تک ثقہ ہیں، لیکن حافظ ابن کثیر نے اس کے نبی کریم ﷺ تک "مرفوع" ہونے پر نکیر کی ہے جیسا کہ ان کی "تفسیر" (5/ 194) میں ہے، اور وہ اس طرف مائل ہوئے ہیں کہ یہ حضرت ابوہریرہؓ کی کعب الاحبار سے روایت ہے! واللہ اعلم۔
أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك، وأبو عوانة: هو وضّاح اليَشكُري، وأبو رافع: هو نفيع الصائغ، تابعي مخضرم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کا تعین: "ابو الولید طیالسی" سے مراد ہشام بن عبد الملک ہیں، "ابو عوانہ" سے مراد وضاح یشکری ہیں، اور "ابو رافع" سے مراد نفیع صائغ ہیں جو کہ مخضرم تابعی ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3153) عن محمد بن بشار وغير واحد، عن هشام بن عبد الملك، بهذا الإسناد. وحسَّنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3153) نے محمد بن بشار اور دیگر کئی راویوں سے، انہوں نے ہشام بن عبد الملک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور (امام ترمذی نے) اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 16 / (10632) و (10633)، وابن ماجه (4080)، وابن حبان (6829) من طرق عن قتادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16/ 10632 اور 10633)، ابن ماجہ (4080) اور ابن حبان (6829) نے قتادہ سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
النَّغَف: دود يكون في أنوف الإبل والغنم.
📝 نوٹ / توضیح: "النَّغَف": وہ کیڑے جو اونٹوں اور بکریوں کی ناک میں ہوتے ہیں۔
تَشكَر: أي: تسمن وتمتلئ شحمًا.
📝 نوٹ / توضیح: "تَشكَر": یعنی وہ موٹے ہو جائیں گے اور چربی سے بھر جائیں گے۔