المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. ذكر سد يأجوج ومأجوج وخرقهم إياه
یاجوج و ماجوج کی دیوار اور ان کے اسے توڑنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8710
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا الوليد بن مُسلِم، عن أبي رافع إسماعيل بن رافع، عن أبي نَضْرة قال: قال أبو سعيد الخُدْري: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أهلَ بيتي سَيَلْقَوْنَ من بعدي من أُمَّتي قتلًا وتشريدًا، وإنَّ أشدَّ قومِنا لنا بُغضًا بنو أُمَيَّةَ، وبنو المُغيرةِ، وبنو مخزومٍ" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میری امت کی جانب سے میرے اہل بیت کو قتل اور بھاگنے کا سامنا ہو گا اور میری قوم کے ساتھ سب سے زیادہ بغض رکھنے والے لوگ بنو امیہ، بنو المغیرہ اور بنو مخزوم ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8710]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8710 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده ضعيف بمرَّة من أجل إسماعيل بن رافع، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" وقال: متروك. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة. وهو في "الفتن" لنعيم بن حماد (319) بإسقاط أبي نضرة. ولفظه فيه: "وبنو المغيرة من بني مخزوم".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "بالکل ضعیف" ہے جس کی وجہ "اسماعیل بن رافع" ہیں، اور ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول کیا اور کہا: "وہ متروک ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابو نضرہ" سے مراد منذر بن مالک بن قطعہ ہیں۔ یہ روایت نعیم بن حماد کی "الفتن" (319) میں ابو نضرہ کے اسقاط (گرنے) کے ساتھ موجود ہے۔ وہاں اس کے الفاظ ہیں: "اور بنو مغیرہ جو بنو مخزوم سے ہیں"۔