🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
137. لا تسبوا أهل الشام فإن فيهم الأبدال
اہلِ شام کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ ان میں ابدال ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8870
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي - وذِكرُه بمِلْءِ الفَم - حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا يحيى بن حمّاد، حدثنا الوضَّاح (2) ، عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن طَرَفة المُسْليّ قال: سمعت عليًّا يقول: إنها لم تكن دولةُ حقٍّ قطُّ إلَّا أُدِيلَ آدمُ على إبليس، ولا دولةُ باطلٍ قطُّ إِلَّا أُدِيلَ إبليسُ على آدم، وأُمر إبليسُ بالسجود فعصى فأُديل عليه آدمُ، حتى قتل الرجلانِ أحدُهما صاحبَه فأُديل عليه إبليس، وإنها ستكون فتنٌ (3) : فتنةٌ خاصّةٌ، وفتنةٌ عامّةٌ، وفتنةُ خاصّةٍ، وفتنةُ عامّةٍ، فقيل: يا أمير المؤمنين، ما الفتنةُ الخاصّةُ والفتنةُ العامّةُ؟ وفتنة الخاصّةِ وفتنةُ العامّةِ؟ قال: فقال: يكون الإمامانِ؛ إمامُ حقٍّ وإمامُ باطلٍ، فيَفئُ من الحقِّ إلى الباطل، ومن الباطلِ إلى الحقّ، فهذه فتنةُ الخاصة، ويكون الإمامانِ؛ إمامُ حقٍّ وإمامُ باطلٍ، فَيفيءُ من الحقِّ إلى الباطلِ، ومن الباطلِ إلى الحق، فهذه فتنةُ العامَّة (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ الوضَّاح هذا هو أبو عَوَانة، ولم يخرجاه للسَّند لا للإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8657 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا طرفہ سلمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب حق کی باری آتی ہے تو اللہ تعالیٰ انسان کو شیطان پر غلبہ عطا فرماتا ہے اور جب باطل کی باری آتی ہے تو شیطان کو انسان پر غلبہ دیا جاتا ہے۔ ابلیس کو سجدے کا حكم دیا گیا، اس نے انکار کر دیا تو اس پر آدم علیہ السلام کو غلبہ دے دیا گیا۔ پھر دو آدمیوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کیا تو اس پر ابلیس کو غلبہ دے دیا گیا۔ عنقریب بہت سارے فتنے ہوں گے، ایک فتنہ خاص ہو گا، پھر ایک فتنہ عام ہو گا، پھر ایک فتنہ خاص ہو گا، پھر ایک فتنہ عام ہو گا۔ آپ سے پوچھا گیا: اے امیرالمومنین! خاص فتنہ کیا ہو گا؟ اور عام فتنہ کیا ہو گا؟ پھر خاص فتنہ کیا ہو گا؟ اور اس کے بعد پھر عام فتنہ کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: دو امام ہوں گے، ایک امام برحق ہو گا اور ایک امام باطل ہو گا، پھر حق سے باطل اور باطل سے حق کی جانب چلے گا۔ یہ فتنہ خاص ہو گا، اور دو امام مزید ہوں گے ایک امام برحق ہو گا اور ایک امام باطل ہو گا، پھر وہ حق سے باطل کی طرف اور باطل سے حق کی طرف پھر جائیں گے، یہ فتنہ عام ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی وضاحت کرنے والے ابوعوانہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8870]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8870 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: أبو الوضاح وهو خطأ. والوضاح هذا هو الوضاح بن عبد الله أبو عوانة اليشكري، وهو حمو يحيى بن حماد.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ’ابو الوضاح‘ لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ یہاں وضاح سے مراد ’وضاح بن عبد اللہ ابو عوانہ الیشکری‘ ہیں، جو یحییٰ بن حماد کے سسر ہیں۔
(3) في (ز) و (ك) و (ب): فتنة، ولم ترد في (م) و "تلخيص الذهبي"، والصواب ما أثبتنا موافقة لما في موضعيه السابقين برقم (8554) و (8751).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں ’فتنۃ‘ ہے، جبکہ (م) اور "تلخیص الذہبی" میں یہ نہیں ہے۔ درست وہی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے، تاکہ یہ سابقہ دو مقامات (نمبر 8554 اور 8751) کے موافق ہو جائے۔
(4) إسناده محتمل للتحسين من أجل طرفة المُسلي، فهو تابعي كبير انفرد بالرواية عنه سالم بن أبي الجعد، وذكره البخاري وابن أبي حاتم ولم يأثرا فيه جرحًا أو تعديلًا، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع على أصل الخبر في قصة الفتن كما سلف برقم (8554) من طريق عاصم بن ضمرة عن علي.
⚖️ درجۂ حدیث: طرفہ المُسلی کی وجہ سے اس سند کے حسن ہونے کا احتمال ہے۔ وہ کبار تابعین میں سے ہیں، ان سے روایت کرنے میں سالم بن ابی الجعد منفرد ہیں۔ بخاری اور ابن ابی حاتم نے ان کا ذکر کیا ہے لیکن ان پر جرح یا تعدیل نقل نہیں کی، جبکہ ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: فتنوں کے قصے میں اصل خبر پر ان کی متابعت موجود ہے جیسا کہ نمبر (8554) پر عاصم بن ضمرہ عن علی کے طریق سے گزر چکا ہے۔
وآخر الخبر هنا هكذا جاء في نسخنا الخطية، وفيه تكرار!
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں اس خبر کے آخر میں اسی طرح عبارت آئی ہے جس میں تکرار واقع ہوئی ہے!
ولم نقف عليه من طريق طرفة المسلي عند غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: طرفہ المسلی کے طریق سے یہ روایت ہمیں مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔