المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
138. من اقتراب الساعة أن ترفع الأشرار وتوضع الأخيار
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند مقام ملے گا اور اچھے لوگ پسِ پشت ڈال دیے جائیں گے
حدیث نمبر: 8872
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، أخبرني عمّار الدُّهْني، عن أبي الطُّفَيل، عن محمد ابن الحنفيّة قال: كنا عند عليٍّ فسأله رجلٌ عن المَهْدي، فقال علي: هَيْهاتَ، ثم عَقَدَ بيده سبعًا، فقال: ذاك يخرجُ في آخر الزمان؛ إذا قال الرجل: اللهُ اللهُ، قُتِلَ، فَيَجمَعُ الله تعالى له قومًا قَزَعًا (1) كَفَزَعِ السَّحاب، يؤلِّفُ الله بين قلوبهم، لا يَستوحِشون إلى أحدٍ ولا يفرَحون بأحدٍ يدخل فيهم، على عِدَّة أصحاب بَدْر، لم يَسبِقْهم الأوَّلون ولا يُدرِكُهم الآخِرون، وعلى عَدَد أصحابِ طالوتَ الذين جازُوا معه النهرَ. قال أبو الطُّفيل: قال ابن الحنفيَّة: أتريدُه؟ قلت: نعم، قال: إنه يخرج من بين هذين الخَشَبتين (1) ، قلت: لا جَرَمَ واللهِ لا أَرِيمُهما (2) حتى أموتَ، فمات بها. يعني مكة، حَرسها الله (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8659 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8659 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ایک آدمی نے ان سے مہدی کے بارے میں پوچھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم مجھ سے دور ہو جاؤ، اس کے بعد اپنے ہاتھ سے سات کا عقد بنایا اور فرمایا: وہ آخری زمانے میں نکلے گا، یہ وہ زمانہ ہو گا جب اللہ کا نام لینے پر انسان کو قتل کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے بادلوں کے ایک ٹکڑے کی مانند لوگ جمع کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں الفت ڈال دے گا، یہ کسی سے نہیں ڈریں گے اور نہ کسی پر خوش ہوں گے ان میں بدری صحابہ کی تعداد کے برابر لوگ جمع ہو جائیں گے، سابقہ لوگ ان تک پہنچ نہیں پائیں گے اور بعد والے ان کو پا نہیں سکیں گے۔ ان کی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں جتنی ہو گی جو طالوت کے ہمراہ نہر سے گزرے تھے۔ ابوالطفیل کہتے ہیں: ابن حنفیہ نے کہا: کیا تم اس کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: وہ ان دو لکڑیوں کے درمیان سے نکلے گا۔ میں نے کہا: یقیناً، اللہ کی قسم میں اپنی زندگی میں اس کو کبھی نہیں دیکھوں گا۔ پھر وہ مکہ میں انتقال کر گئے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8872]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8872 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: هذه الخشبتين مع الاختلاف في إعجام الخشبتين، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو الأصوب والمراد بالخشبتين: الأخشبان؛ وهما الجبلان المحيطان بمكة، أحدهما: أبو قُبيس، والآخر: قُعيقعان.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ’ہذہ الخشبتین‘ ہے (نقطوں کے اختلاف کے ساتھ)، جبکہ "تلخیص الذہبی" سے جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ زیادہ درست ہے۔ یہاں ’خشبتین‘ سے مراد ’الاخشبان‘ ہیں؛ یعنی مکہ مکرمہ کو گھیرے ہوئے دو پہاڑ: ایک ابو قبیس اور دوسرا قعیقعان۔
(2) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى: أرميهما، والمثبت من (م) و "التلخيص"، وفي (ك): أريمها.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’ارمیہما‘ بن گیا ہے۔ جبکہ متن میں جو درج ہے وہ (م) اور "التلخیص" سے لیا گیا ہے۔ اور نسخہ (ک) میں یہ ’اریمہا‘ ہے۔
ومعنى "لا أَريمهما": لا أبرحهما ولا أزول عنهما.
📝 نوٹ / توضیح: "لا أريمهما" کا معنی ہے: میں ان دونوں سے نہیں ہٹوں گا اور نہ ہی ان سے جدا ہوں گا۔
(3) إسناده حسن من أجل يونس بن أبي أسحاق، فإنه صدوق يَهِمُ. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.
⚖️ درجۂ حدیث: یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے، کیونکہ وہ صدوق (سچے) ہیں لیکن ان سے وہم ہو جاتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الطفیل سے مراد ’عامر بن واثلہ‘ ہیں۔
ولم نقف على هذا الخبر عند غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت ہمیں مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔