🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
138. من اقتراب الساعة أن ترفع الأشرار وتوضع الأخيار
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلند مقام ملے گا اور اچھے لوگ پسِ پشت ڈال دیے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8874
حدَّثَناهُ علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا موسى بن الحسن بن عبّاد، حدثنا أبو يوسف محمد بن كَثير الصَّنعاني، حدثنا الأوزاعي، عن عمرو بن قيس السَّكُوني قال: خرجتُ مع أَبي في الوَفْد إلى معاوية، فسمعت رجلًا يحدِّث الناسَ يقول: إنَّ من أشراطِ الساعة أن تُرفعَ الأشرارُ وتُوضَعَ الأخيار، وأن يُخزَنَ الفعلُ والعملُ ويَظهرَ القولُ، وأن يُقرأَ بالمَثنْاةِ في القوم ليس فيهم من يغيِّرها أو يُنكِرها. فقيل: ما المثَنْاة؟ قال: ما اكتَتبتَ سوى كتابِ الله. قال: فحدَّثت بهذا الحديث قومًا وفيهم إسماعيل بن عُبيد الله، فقال: أنا معك في ذلك المجلس، تَدْري مَن الرجلُ؟ قلت: لا، قال: عبدُ الله بنُ عَمرو (1) .
هذا حديث صحيح الإسنادين جميعًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8661 - صحيح
سیدنا عمرو بن قیس السکونی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ ایک وفد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ایک آدمی کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا، قرب قیامت کی نشانی ہے کہ گندے لوگوں کو عزت دی جائے گی اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، عمل کم ہو گا اور باتیں زیادہ ہوں گی، اور قوم میں مثناۃ بیان ہوں گی لیکن ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہو گا یا اس کو برا جاننے والا کوئی نہیں ہو گا، پوچھا گیا۔ مثناۃ کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: کتاب اللہ کے سوا جو کچھ بھی لکھا جاتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے یہ حدیث کچھ لوگوں کو سنائی، ان میں اسماعیل بن عبداللہ بھی تھے، انہوں نے کہا: اس مجلس میں تمہارے ساتھ میں بھی تھا، تمہیں معلوم ہے کہ وہ شخص کون تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8874]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8874 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح موقوفًا كما سبق بيانه، وهذا إسناد فيه ضعف من جهة محمد بن كثير الصنعاني، وهو على ضعفه يعتبر به إلّا أنه كان كثير الخطأ، وممّا أخطأ فيه في هذا الخبر ذكرُ معاوية، والمحفوظ أنه ابنه يزيد بن معاوية، وهكذا رواه على الصواب بشر بن بكر التنيسي - وهو وهو ثقة - عن الأوزاعي عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 46/ 313. وسقط الأوزاعي من مطبوعه. وأخرج ابن عساكر أيضًا 46/ 313 حديث محمد بن كثير من طريق أحمد بن عبد الواحد عنه، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر موقوفاً صحیح ہے جیسا کہ بیان ہوا، لیکن اس سند میں محمد بن کثیر الصنعانی کی وجہ سے ضعف ہے۔ وہ ضعیف ہونے کے باوجود متابعت میں قابلِ قبول ہیں، مگر وہ بہت غلطیاں کرتے تھے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان کی ایک غلطی اس خبر میں ’معاویہ‘ کا ذکر ہے، جبکہ محفوظ یہ ہے کہ وہ ان کے بیٹے ’یزید بن معاویہ‘ ہیں۔ اسی طرح بشر بن بکر تنیسی (جو ثقہ ہیں) نے اوزاعی سے درست روایت کیا ہے جسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" [46/ 313] میں نقل کیا ہے (مطبوعہ نسخے سے اوزاعی کا نام گر گیا ہے)۔ ابن عساکر نے [46/ 313] پر محمد بن کثیر کی حدیث احمد بن عبد الواحد کے طریق سے انہی سے روایت کی ہے۔