🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. أول سورة نزلت فيها السجدة الحج
وہ پہلی سورت جس میں سجدہ نازل ہوا، سورۃ الحج ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 898
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن الأسوَد، عن عبد الله قال: أولُ سورةٍ نزلت فيها السجدةُ (الحجُّ) ، قرأها رسولُ الله ﷺ فَسَجَدَ وسجدَ الناسُ إلّا رجلٌ (2) أَخَذَ الترابَ فسجد عليه فرأيته قُتِلَ كافرًا (3) . تابعه زكريا بن أبي زائدة عن أبي إسحاق هكذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 803 - تابعه زكريا بن أبي زائد عن أبي إسحاق على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پہلی سورت جس میں سجدہ نازل ہوا وہ سورہ حج ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سجدہ کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا سوائے ایک شخص کے جس نے مٹی کی مٹھی بھر کر اس پر سجدہ کر لیا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 898]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 898 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حق المستثنى بإلَّا من كلام تام موجب أن يُنصَب مفردًا كان أو مكمَّلًا معناه بما بعده، وقد يقع في كلام العرب المستثنى بعد إلَّا مرفوعًا على الابتداء كما وقع هنا في رواية المصنف، وعلى ذلك شواهد من القرآن والحديث، انظر "شواهد التوضيح" لابن مالك ص 41 - 44.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (2) عربی قواعد کے مطابق "إلا" کے بعد مستثنیٰ منسوب ہوتا ہے، مگر کبھی عربی کلام میں اسے مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع بھی پڑھا جاتا ہے جیسا کہ یہاں مصنف کی روایت میں ہے۔ اس کی مثالیں قرآن و حدیث میں موجود ہیں (دیکھیں: شواہد التوضیح لابن مالک)۔
(3) إسناده صحيح، إلَّا أن ذكر سورة الحج فيه شاذٌّ، والمحفوظ سورة النجم، هكذا رواه أبو أحمد الزبيري عند البخاري (4863)، ووكيع عند أبي يعلى (5218)، وإسحاق بن منصور عند ابن شاهين في "ناسخ الحديث ومنسوخه" (238)، ثلاثتهم عن إسرائيل بذكر النجم خلافًا لعبيد الله بن موسى.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند صحیح ہے، مگر ⚠️ سندی اختلاف: اس میں سورہ "حج" کا ذکر کرنا "شاذ" ہے، محفوظ بات سورہ "نجم" ہے، جیسا کہ بخاری (4863) اور دیگر ثقہ راویوں نے اسرائیل سے روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه شعبة عند أحمد 6/ (3805) والبخاري (1067) ومسلم (576) وأبي داود (1406) وابن حبان (2764) وغيرهم، وسفيان الثوري عند أحمد 6/ (3682)، وزهير بن معاوية عند ابن أبي شيبة 14/ 135، ثلاثتهم عن أبي إسحاق السَّبيعي، عن الأسود بن يزيد النخعي، عن عبد الله بن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح شعبہ (بخاری 1067، مسلم 576)، سفیان ثوری اور زہیر بن معاویہ نے ابواسحاق السبیعی عن الاسود عن ابن مسعود کی سند سے روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه إبراهيم النخعي عن الأسود عند الخطيب البغدادي في "تلخيص المتشابه في الرسم" 1/ 642، لكن تحرَّف في المطبوع منه "إبراهيم عن الأسود" إلى: إبراهيم بن الأسود.
🔍 فنی نکتہ: ابراہیم نخعی نے بھی اسود سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر مطبوعہ میں "ابراہیم بن الاسود" غلط چھپ گیا ہے۔