🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. كان يقول في سجود القرآن بالليل : " سجد وجهي للذي خلقه فشق سمعه وبصره بحوله وقوته "
رسولُ اللہ ﷺ رات کے وقت سجدۂ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہوا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی قدرت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں کھولیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا خالد، عن أبي العاليَة، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول في سجودِ القرآن بالليل:"سَجَدَ وجهي للذي خَلَقَه، وشَقَّ سمعَه وبصرَه بحَولِه وقوَّتِه، فتبارَكَ اللهُ أحسنُ الخالقين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 802 - على شرطهما
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھتے تھے: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.» میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اور اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور آنکھیں بنائیں، پس بہت بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 897]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 897 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره دون تقييده بسجود القرآن، وهذا إسناد منقطع كما سبق بيانه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) سجدہ تلاوت کی تخصیص کے بغیر "صحیح لغیرہ" ہے، مگر سند منقطع ہے۔
وأخرجه الترمذي (580) و (3425)، والنسائي (718) من طريقين عن عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (580، 3425) اور نسائی (718) نے عبدالوہاب الثقفی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔