🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. أَقَلُّ سَاكِنِي الْجَنَّةِ النِّسَاءُ
جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8997
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرو من أصل كتابه، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ذرٍّ، عن وائل بن مَهَانةَ التَّيْمي، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ النساءِ، تَصدَّقنَ ولو من حُلِيِّكُنَّ، فإنكنَّ أكثرُ أهل جهنَّم" [فقالت امرأةٌ ليست من عِلْية النساء: وبِمَ يا رسول الله نحن أكثر أهل جهنم؟] (2) قال:"لأنكنَّ تُكثِرنَ اللَّعْنَ، وتَكْفُرنَ العَشِيرَ، وما رأيتُ من ناقصات عقلٍ ودينٍ أغلب للُبِّ الرجل منكنَّ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه جرير بن عبد الحميد عن منصور (1) بزيادة ألفاظ فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8783 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، خواہ اپنے زیورات ہی میں سے ہو، کیونکہ جہنم میں تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ ایک عام سی عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہماری تعداد جہنم میں سب سے زیادہ کیوں ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، اور میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود کسی مردِ عاقل کی عقل کو تم سے زیادہ مغلوب کر دینے والا کوئی نہیں دیکھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اسے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے کچھ زائد الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8997]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل وائل بن مهانة» [ترقيم الرساله 8997] [ترقيم الشركة 8889] [ترقيم العلميه 8783]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8997 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين ليس في شيء من نسخنا الخطية، وأثبتناه من "تلخيص للذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) جو عبارت بریکٹ کے درمیان ہے وہ ہمارے کسی بھی قلمی نسخے میں موجود نہیں، ہم نے اسے ذہبی کی "تلخیص" سے ثابت کیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل وائل بن مهانة.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ (شواہد کی بنا پر) صحیح لغیرہ ہے، اور یہ سند وائل بن مہانہ کی وجہ سے ان شاء اللہ حسن ہے۔
وقد سلف برقم (2807) من طريق سفيان وجرير عن منصور، وقرن سفيان هناك بمنصورٍ الأعمش.
📖 حوالہ / مصدر: اور یہ پہلے نمبر (2807) پر سفیان اور جریر کے طریق سے منصور سے گزر چکی ہے، اور وہاں سفیان نے منصور کے ساتھ اعمش کو بھی ملایا ہے۔
(1) في نسخنا الخطية: جرير بن عبد الحميد عن الأعمش، وهو خطأ، وأثبتناه على الصواب كما في "تلخيصه" للذهبي، والحديث التالي يؤيده.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں "جریر بن عبدالحمید عن الاعمش" ہے، جو کہ غلطی ہے، اور ہم نے اسے درست کر کے ذہبی کی "تلخیص" کے مطابق ثابت کیا ہے، اور اگلی حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8997 in Urdu