🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. فضلت سورة الحج بسجدتين
سورۃ الحج کو دو سجدوں کی فضیلت دی گئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 901
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليمان التَّيْمي، عن أبي مِجلَزٍ، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ صلَّى الظُّهرَ فَسَجَدَ، فظنَّنا أنه قرأ: ﴿تَنْزِيلُ﴾ السجدة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وهو سُنَّة صحيحة غريبة: أنَّ الإمام يَسجُد فيما يُسِرُّ بالقراءة مثلَ سجوده فيما يُعلِن (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 806 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور سجدہ (تلاوت) کیا، ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ السجدہ تلاوت فرمائی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ ایک صحیح اور نادر سنت ہے کہ امام سری نمازوں (جن میں آواز نیچی رکھی جاتی ہے) میں بھی اسی طرح سجدہ تلاوت کرے جیسے جہری نمازوں میں کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 901]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 901 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز - وهو لاحق بن حميد - كما صرَّح هو في رواية يزيد بن هارون عنه عند أحمد 9/ (5556)، وسمَّى الواسطة بينهما في رواية ابن المعتمر عنه عند أبي داود (807)، وهو أُمية، وهذا رجل مجهول لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: سلیمان التیمی نے اسے ابومجلز (لاحق بن حمید) سے نہیں سنا جیسا کہ احمد (5556/9) میں صراحت ہے، اور ابوداؤد (807) کی روایت میں ان کے درمیان واسطہ "امیہ" نامی ایک مجہول شخص ہے۔
(2) بعد أن ثبت ضعف الإسناد، فلا يصحُّ نسبة سُنِّيته إلى النبي ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) جب سند کا ضعف ثابت ہو گیا، تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی سنت کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے۔