المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. فضلت سورة الحج بسجدتين
سورۃ الحج کو دو سجدوں کی فضیلت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 902
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إيَاس، حدثنا شُعْبة. وأخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الله بن خَيْرانَ وعمرو بن مرزوق قالا: حدثنا شعبة، عن منصور، عن هلال بن يَسَاف، عن عائشة قالت: باتَ رسولَ الله ﷺ ليلةً عندي، قالت: ففَقَدتُه فظننتُه أنه ذهب إلى بعضِ نسائه، قالت: فالتَمَستُه فانتهيتُ إليه وهو ساجد، فوضعتُ يدي عليه فسمعتُه يقول:"اغفِرْ لي ما أسرَرتُ وما أعلَنتُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 807 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 807 - على شرطهما
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر پر) نہ پایا تو مجھے گمان ہوا کہ آپ اپنی کسی اور زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا تو سنا کہ آپ یہ کہہ رہے تھے: «اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ» ”میرے وہ گناہ بخش دے جو میں نے چھپ کر کیے اور جو میں نے علانیہ کیے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 902]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 902]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 902 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح من جهة ابن بالويه، وعبد الرحمن بن الحسن القاضي ضعيف، ولا يضر ذلك لأنه متابع. منصور: هو ابن المعتمر.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) ابن بالویہ کی جہت سے سند صحیح ہے، اور عبدالرحمن بن حسن ضعیف ہونے کے باوجود متابعت کی وجہ سے نقصان دہ نہیں ہیں۔ منصور سے مراد ابن المعتمر ہیں۔
وأخرجه أحمد 42/ (25140)، والنسائي في "المجتبى" (1125) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (25140/42) اور نسائی (1125) نے محمد بن جعفر عن شعبہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي في "المجتبى" (1124)، و"الكبرى" (714) من طريق جرير بن عبد الحميد، عن منصور، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے "المجتبیٰ" (1124) اور "الکبریٰ" (714) میں جریر بن عبدالحمید عن منصور کی سند سے روایت کیا ہے۔