🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. أن النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - كان إذا ركع فرج بين أصابعه
بیشک رسولُ اللہ ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنی انگلیوں کے درمیان فاصلہ رکھتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 914
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد المُزكِّي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا القَعنبَي، فيما قَرأَ على مالك. وأخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا مالك. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي قال: قرأتُ على عبد الرحمن بن مَهدِي، عن مالك، عن نُعَيم بن عبد الله المُجمِر، عن علي بن يحيى بن خلَّاد الزُّرَقي، عن أبيه، عن رِفاعةَ بن رافع الزُّرَقي، أنه قال: كنا يومًا نصلِّي مع رسول الله ﷺ، فلما رَفَعَ رأسَه من الركعة قال:"سَمِعَ اللهُ لمن حَمِدَه" قال رجل: ربَّنا ولك الحمدُ حمدًا كثيرًا طيِّبًا مبارَكًا فيه، فلمّا انصَرَفَ رسولُ الله ﷺ قال:"مَن المتكلِّمُ آنِفًا؟" قال الرجل: أنا يا رسول الله، قال رسول الله ﷺ:"لقد رأيتُ بِضْعًا وثلاثين مَلَكًا يَبتدِرُونَها أَيُّهم يَكتُبُها" (2) .
هذا حديث صحيح من حديث المدنيين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 819 - صحيح
سیدنا رفاعہ بن رافع زریقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» فرمایا تو ایک شخص نے کہا: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» "اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے حمد ہے، ایسی حمد جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہو۔" جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: "ابھی کلام کرنے والا کون تھا؟" اس شخص نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں تھا،" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسے کون لکھے۔"
یہ مدنی راویوں کی صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 914]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 914 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 31/ (18996).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) سند صحیح ہے۔ یہ "مسند احمد" (18996/31) میں موجود ہے۔
وأخرجه البخاري (799)، وأبو داود (770) عن عبد الله بن مَسلَمة القعنبي، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (799) اور ابوداؤد (770) نے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی کی سند سے روایت کیا ہے۔ حاکم کا اسے مستدرک کہنا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه النسائي (653)، وابن حبان (1910) من طريقين عن مالك، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (653) اور ابن حبان (1910) نے امام مالک کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أبو داود (773)، والترمذي (404)، والنسائي (1005) من طريق معاذ بن رفاعة، عن أبيه رفاعة، وفيه أنه هو القائل: الحمد لله حمدًا كثيرًا … إلخ. وإسناده حسن، وانظر ما سيأتي عند المصنف برقم (5093). ¤ ¤ قوله: "يبتدرونها" أي يتسابقون أيهم يكتب هذه الكلمات أولًا، لما لها من الفضل والقَبول عند الله تعالى.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (773)، ترمذی (404) اور نسائی (1005) نے معاذ بن رفاعہ عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ یہ کلمات خود رفاعہ نے کہے تھے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 📝 (توضیح): "یبتدرونہا" کا مطلب ہے کہ فرشتے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے، کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی بہت فضیلت ہے۔