المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. القنوت في الصلوات الخمس والدعاء فيه على الكفار
پانچوں نمازوں میں قنوت پڑھنے اور اس میں کفار کے خلاف دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 915
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا هلال بن خَبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قَنَتَ رسولُ الله ﷺ شهرًا متتابِعًا في الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح، في دُبُر كل صلاة إذا قال:"سَمِعَ الله لمن حَمِدَه" صلَّى الركعةَ الآخِرَةَ، يدعو على حيٍّ من بني سُلَيم على رِعْل وذَكوان وعُصَيَّة، ويُؤمِّن مَن خلفَه، وكان أرسَلَ إليهم يَدعُوهم إلى الإسلام، فقتلوهم. قال عكرمة: هذا مِفتاح القُنوت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 820 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 820 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک مسلسل ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں ہر نماز کے آخر میں جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو قنوت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو سلیم کے قبیلوں رعل، ذکوان اور عصیہ کے خلاف دعا کرتے تھے اور مقتدی پیچھے آمین کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف داعی بھیجے تھے جنہوں نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ قنوت کی ابتدا تھی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 915]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 915]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 915 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. عارم: لقب، واسمه محمد بن الفضل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عارم ایک لقب ہے، ان کا اصل نام محمد بن الفضل ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2746)، وأبو داود (1443) من طرق عن ثابت بن يزيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2746/4) اور ابوداؤد (1443) نے ثابت بن یزید کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔