🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. سجدتا السهو تسمى المرغمتين
سجدۂ سہو کو دو ذلت دلانے والے سجدے کہا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 977
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثني عِمرانُ بن موسى، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، أنه حدَّثه عن أبيه: أنه رأَى أبا رافع مولى النبيِّ ﷺ مَرَّ بالحسن ابن علي وهو يصلِّي قائمًا وقد غَرَزَ ضَفْرَه في قَفَاهُ، فحَلَّها أبو رافع، فالْتَفَتْ الحسنُ إليه مُغضَبًا، فقال أبو رافع: أَقبِلْ على صلاتك ولا تَغضَبْ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ذلك كِفْلُ الشيطانِ"؛ يعني مَقعَدَ الشيطان، يعني مَغرِزَ ضَفْره (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتَجَّا بجميع رواته غيرِ عمران، وقد قال علي ابن المَدِيني: عمرانُ بن موسى بن عمرو بن سعيد بن العاص القرشي أخو أيوب بن موسى، روى عنه ابن جُرَيج وابن عُلَيَّة على كُلٍّ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 963 - صحيح
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا گزر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہوا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں گدی پر باندھ رکھی تھیں، ابو رافع نے انہیں کھول دیا، حسن نے غصے سے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے فرمایا: اپنی نماز کی طرف متوجہ رہو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ "وہ شیطان کی بیٹھک ہے (یعنی شیطان وہاں بیٹھتا ہے)۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے عمران کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عمران بن موسیٰ کی ثقاہت علی بن مدینی نے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 977]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 977 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل عمران بن موسى، وهو في "مسند أحمد" 39/ (23878).
⚖️ درجۂ حدیث: (3) عمران بن موسیٰ کی وجہ سے سند "حسن" ہے، یہ "مسند احمد" (23878/39) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (646)، والترمذي (384) من طريقين عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (646) اور ترمذی (384) نے عبدالرزاق کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2279) من طريق حجاج بن محمد، عن ابن جريج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2279) نے حجاج بن محمد عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج نحوه أحمد (23873)، وابن ماجه (1042) من طريق مخوَّل بن راشد، عن أبي سعد، عن أبي رافع. وفي سنده مقال.
📖 حوالہ / مصدر: اسی مفہوم کی روایت احمد (23873) اور ابن ماجہ (1042) میں مخول بن راشد کی سند سے مروی ہے مگر اس کی سند پر کلام ہے۔
قوله: "غرز ضَفْرَه في قفاه" أي: لوى شعرَه وأدخل أطرافه في أصوله.
📝 (توضیح): "غرز ضفرہ فی قفاہ" کا مطلب ہے: اپنے بالوں کو مروڑ کر گدی کے بالوں کی جڑوں میں پھنسا لینا۔
(1) كذا وقع في النسخ الخطية: "على كل"، وفي "تلخيص الذهبي" مكانه: أيضًا، ويغلب على ظننا أنَّ لفظ "على" محرَّف عن لفظ "عن"، والمراد أنَّ ابن جريج وابن عليَّة رويا عن عمران بن موسى وأخيه أيوب، وهو كذلك، وقد زاد الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 937 راويًا ثالثًا عن عمران هذا وهو زيد بن يحيى بن عبيد الدمشقي، وأفاده من "تاريخ دمشق" لابن عساكر 43/ 522.
🔍 علّت / فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "علی کل" ہے، غالب گمان ہے کہ یہ "عن" کی تحریف ہے؛ مراد یہ ہے کہ ابن جریج اور ابن علیہ نے عمران بن موسیٰ اور ان کے بھائی ایوب سے روایت کی ہے۔ ابن عساکر نے اس میں تیسرے راوی زید بن یحییٰ کا بھی ذکر کیا ہے۔