🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلاة
قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 981
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة. وأخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا حَمْدُون بن أحمد السِّمسار، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج، حدثنا حماد بن سلمة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا حماد بن سلمة، عن الأزرق بن قيس، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ. وعن داود بن أبي هند، عن زُرَارة بن أَوفَى، عن تَميم الداريِّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أولَ ما يُحاسَبُ به العبدُ (1) يومَ القيامة صلاتُه"، وذكر الحديث بنحوه (2) .
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا،" اور پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 981]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 981 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "به العبد" ليس في (ز) و (ص)، وأثبتناه من (ب) و (ع).
🔍 فنی نکتہ: (1) "به العبد" کے الفاظ نسخہ (ز) اور (ص) میں نہیں تھے، ہم نے (ب) اور (ع) سے شامل کیے ہیں۔
(2) حديث صحيح، وفي بعض هذه الأسانيد لِين.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ "حدیث صحیح" ہے اگرچہ اس کے بعض اسانید میں تھوڑی کمزوری (لین) ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16614) عن حسن بن موسى الأشيب، و 34/ (20692) عن عفان، والنسائي (321) من طريق النضر بن شميل، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، عن الأزرق بن قيس، عن يحيى بن يَعمَر، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ، وسماه النضر في روايته أبا هريرة. وكل من رواه عن حماد بن سلمة بهذا الإسناد عند غير الحاكم أدخل بين الأزرق والصحابي يحيى بنَ يعمر، فنخشى أن يكون هذا الراوي قد سقط من أصول "المستدرك" الخطية وليس من أصل رواية المصنف، والله تعالى أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، نسائی (321) اور دیگر نے حماد بن سلمہ کی سند سے "ایک صحابی" کے واسطے سے روایت کیا ہے، نضر بن شمیل نے اس صحابی کا نام حضرت ابوہریرہ بتایا ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: حماد سے روایت کرنے والے دیگر تمام راویوں نے ازرق اور صحابی کے درمیان "یحییٰ بن یعمر" کا واسطہ ذکر کیا ہے، خدشہ ہے کہ یہ نام مستدرک کے نسخوں سے گر گیا ہے۔