🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. باب : التطوع في السفر
باب: سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَهُ وَانْصَرَفَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ، فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے (سورۃ الاحزاب: ۲۱) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 11 (1101)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 5 (1459)، (تحفة الأشراف: 6693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/224)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1547) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تو نماز ایسی عبادت میں بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنت سے زیادہ پڑھنا مناسب نہ جانا، یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کمال اتباع ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بہت سخت تھے، یہاں تک کہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان مقامات پر ٹھہرتے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرتے تھے، اور وہیں نماز ادا کرتے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ سفر میں نماز کی سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اکثر کا یہ قول ہے کہ اگر پڑھے گا تو ثواب ہو گا، اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ترمذی کی روایت میں ظہر کی سنتیں پڑھنا منقول ہے، اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ سفر میں صرف فرض ادا کرے، سنتیں نہ پڑھے، ہاں عام نوافل پڑھنا جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسفار مبارکہ میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، سوائے فجر کی سنت اور وتر کے کہ ان دونوں کو سفر یا حضر کہیں نہیں چھوڑتے تھے، نیز عام نوافل کا پڑھنا آپ سے سفر میں ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥حفص بن عاصم العدوي
Newحفص بن عاصم العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عيسى بن حفص القرشي، أبو زياد
Newعيسى بن حفص القرشي ← حفص بن عاصم العدوي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← عيسى بن حفص القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن خلاد الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن خلاد الباهلي ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1101
صحبت النبي فلم أره يسبح في السفر وقال الله جل ذكره لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة
صحيح البخاري
1102
لا يزيد في السفر على ركعتين
صحيح البخاري
1082
صليت مع النبي بمنى ركعتين وأبي بكر وعمر ومع عثمان صدرا من إمارته ثم أتمها
صحيح مسلم
1580
في السفر فما رأيته يسبح ولو كنت مسبحا لأتممت وقد قال الله لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة
صحيح مسلم
1592
صلى رسول الله بمنى ركعتين وأبو بكر بعده وعمر بعد أبي بكر وعثمان صدرا من خلافته ثم إن عثمان صلى بعد أربعا فكان ابن عمر إذا صلى مع الإمام صلى أربعا وإذا صلاها وحده صلى ركعتين
صحيح مسلم
1590
صلى صلاة المسافر بمنى وغيره ركعتين
صحيح مسلم
1594
صلى النبي بمنى صلاة المسافر و أبو بكر وعمر وعثمان ثماني سنين قال حفص وكان ابن عمر يصلي بمنى ركعتين ثم يأتي فراشه فقلت أي عم لو صليت بعدها ركعتين قال لو فعلت لأتممت الصلاة
صحيح مسلم
1579
في السفر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وصحبت أبا بكر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وصحبت عمر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله ثم صحبت عثمان فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله وقد قال الله لقد كان لكم في رسول الله
جامع الترمذي
552
صليت مع النبي في الحضر والسفر فصليت معه في الحضر الظهر أربعا وبعدها ركعتين وصليت معه في السفر الظهر ركعتين وبعدها ركعتين والعصر ركعتين ولم يصل بعدها شيئا والمغرب في الحضر والسفر سواء ثلاث ركعات لا تنقص في الحضر ولا في السفر هي وتر النها
جامع الترمذي
551
صليت مع النبي الظهر في السفر ركعتين وبعدها ركعتين
جامع الترمذي
544
يصلون الظهر والعصر ركعتين ركعتين لا يصلون قبلها ولا بعدها
سنن النسائى الصغرى
1452
صلى رسول الله بمنى ركعتين
سنن النسائى الصغرى
1451
صليت مع النبي بمنى ركعتين ومع أبي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين
سنن النسائى الصغرى
1458
لا يزيد في السفر على ركعتين لا يصلي قبلها ولا بعدها
سنن النسائى الصغرى
1459
لا يزيد في السفر على الركعتين
سنن النسائى الصغرى
458
الله أمرنا أن نصلي ركعتين في السفر
سنن ابن ماجه
1193
يصلي في السفر ركعتين لا يزيد عليهما وكان يتهجد من الليل قلت وكان يوتر قال نعم
سنن ابن ماجه
1071
لم يزد على ركعتين في السفر حتى قبضه الله ثم صحبت أبا بكر فلم يزد على ركعتين ثم صحبت عمر فلم يزد على ركعتين ثم صحبت عثمان فلم يزد على ركعتين حتى قبضهم الله والله يقول لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة
سنن ابن ماجه
1067
إذا خرج من هذه المدينة لم يزد على ركعتين حتى يرجع إليها
المعجم الصغير للطبراني
313
عن صلاة السفر ، فقال : ركعتان نزلتا من السماء ، فإن شئتم فردوها
المعجم الصغير للطبراني
278
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فى السفر ركعتين ، ومع أبى بكر ركعتين ، ومع عمر ركعتين ، ثم تفرقت بكم السبل فوالله لوددت أن أحظى من أربع ركعات ركعتين متقبلتين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1071 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1071
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان للہ عنہم اجمعین کا عمل یہی ہے کہ سفر کے دوران میں فرض نماز سے پہلے یا بعد سنتیں نہ پڑھی جایئں۔

(2)
سفر کے دوران میں دیگر نفل نمازیں ادا کرنا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران میں سواری پر نماز نفل ادا کرتے تھے۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نما ز پڑھتے تھے۔
خواہ سواری کا منہ کسی طرف ہو۔ (نماز شروع کرنے کے بعد صرف شروع میں ایک مرتبہ رخ ہوکر نیت باندھتے)
پھر جب فرض ادا کرنے کا ارادہ فرماتے تو (سواری سے)
اتر کر قبلہ رو ہوجاتے۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب التوجه نحو القبلة حیث کان، حدیث: 400)

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد وعمل معلوم ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔
تاہم اگر تاکید کے لئے دیگر علماء کاعمل یا فرما ن بھی ذکرکردیا جائے تو جائز ہے۔
جیسے حضرت عبدا للہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلفائے راشدین رضوان للہ عنہم اجمعین کا عمل بیان کیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1071]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 458
نماز کیسے فرض ہوئی؟
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «‏فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم‏» اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں (النساء: ۱۰۱) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 458]
458 ۔ اردو حاشیہ:
➊اعتراض یہ تھا کہ قرآن مجید میں قصر صلاۃ کے لیے خوف کی قید مذکور ہے جب کہ یہ لوگ بغیر خوف کے قصر کر رہے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اصولی جواب دیا کہ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اصل ہے۔ قرآن مجید کا مطلب بھی وہی معتبر ہے جو آپ ارشاد فرمائیں کیونکہ قرآن مجید بھی تو آپ ہی لے کر آئے ہیں۔ آپ ہی اس کا صحیح مفہوم جانتے ہیں۔ آپ نے بارہا سفر میں قصر کی، حالانکہ کوئی خوف نہیں تھا، حتیٰ کہ حجۃ الوداع میں بھی قصر کی جب کہ آپ کی حکو مت قائم ہو چکی تھی۔
➋حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس اصولی جواب کے علاوہ بھی جوابات دیے گئے ہیں، مثلاً 1۔ جب قصر کی آیت اتری، اس وقت خوف بھی تھا، لہٰذا آیت میں واقعہ کی مناسبت سے خوف کا ذکر کر دیا گیا ورنہ یہ شرط مقصود نہ تھی، سفر ہی شرط تھا۔ 2۔ قرآن مجید میں صلاۃ خوف ہی کا ذکر ہے۔ صلاۃ سفر کا ذکر صرف احادیث میں ہے۔ قرآن مجید میں سفر کی نماز کا ذکر ہی نہیں۔ 3۔ (ان خفتم۔۔۔ الخ) سے صلاۃ خوف کا ذکر ہے اور اس سے پہلے صلاۃ سفر مذکور ہے، گویا (ان خفتم) کا تعلق ماقبل سے نہیں مابعد سے ہے، دونوں الگ الگ جملے ہیں۔
➌ امرنا سے مراد وجوبی حکم نہیں بلکہ استحبابی حکم مراد ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 458]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1452
منیٰ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1452]
1452۔ اردو حاشیہ:
➊ بعد میں کسی وجہ سے اجتہادی طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر منیٰ میں چار رکعتیں شروع کر دی تھیں۔ اور محدثین نے اس کی متعدد وجوہ بیان فرمائی ہیں جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ اور اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بابت بھی مروی ہے کہ وہ بھی دوران سفر میں پوری نماز پڑھ لیتی تھیں۔ ان احادیث کے پیش نظر علمائے محققین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انسان کواللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس رخصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، نیز فرمان نبوی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے۔ بنابریں ہمارے نزدیک افضل یہ ہے کہ دوران سفر نماز قصر پڑھی جائے، لیکن اگر کوئی رخصت سے فائدہ نہ اٹھائے اور پوری نماز پڑھے تو اس کی بھی گنجائش ہے اسے بدعت وغیرہ نہیں کہنا چاہیے۔ واللہ أعلم۔
➋ مندرجہ بالا تمام روایات میں دو رکعت سے مراد صرف وہ نماز ہے جو اصل رباعی، یعنی چار رکعت والی ہے، ورنہ مغرب ہر حال میں تین رکعت ہے اور فجر ہر حال میں دو رکعت۔ اور یہ متفقہ بات ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1452]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1458
سفر میں سنت (نفل) نہ پڑھنے کا بیان۔
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
1458۔ اردو حاشیہ: فرض نمازوں کی تمام سنن رواتب کے سوا سفر میں نفل پڑھنا قطعاً منع نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے مطلق نوافل پڑھنا ثابت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سفر میں سواری پر نفل نماز (وتر وغیرہ) پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس میں وہ استقبال قبلہ (قبلہ رخ ہونے) کا بھی سوائے وقتِ آغاز کے، کوئی اہتمام نہیں کرتے تھے، بلکہ سواری کا رخ اور منہ جس طرف بھی ہوتا اسی طرف نماز پڑھ لیتے۔ اس طرح صرف نوافل میں کرتے، فرض نماز سواری سے اتر کر اور قبلہ رخ ہو کر پڑھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کراام رضی اللہ عنھم کا سفر میں یہ عام معمول تھا۔ صحیحین کی احادیث میں اس کی مکمل صراحت موجود ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، التقصیر، حدیث: 1100-1193، و صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین……، حدیث: 702-700) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی سنتوں کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی صبح کی سنتوں کا خاص اہتمام و التزام فرمایا کرتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ عفیفہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر صبح کی سنتوں کا التزام و اہتمام اور ان پر محافظت و مداومت فرماتے تھے، اس قدر کسی اور نفل نماز پر نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1129) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی سنتوں کی بابت فرمایا ہے: فجر کی دو رکعت (سنتیں) دنیا و مافیہا، یعنی جو کچھ دنیا میں ہے، اس سب سے بہتر ہیں۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 725) نیز یہ سنتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ازحد محبوب اور پیاری تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی سنتوں کا کس قدر التزام فرماتے تھے؟ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے واپس آتے ہوئے رات کے پچھلے پہر سو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کوئی بھی طلوع آفتاب سے پہلے نہ اٹھ سکا تو آپ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے فرمایا: اپنی سواریاں لے کر اس وادی سے نکل چلو، اس جگہ شیطان رہتا ہے۔ پھر آپ نے وضو کیا اس کے بعد صبح کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر صبح کے فرض باجماعت ادا کیے۔ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 680) البتہ جو نماز قصر کی جاتی ہے، یعنی ظہر، عصر اور عشاء، ان میں آپ سے سنتیں پڑھنے کا ذکر نہیں ملتا، لہٰذا قصر کی جائے تو سنتیں نہ پڑھی جائیں کیونکہ قصر تو تخفیف کے لیے ہے۔ سنتیں پڑھنے سے تخفیف ختم ہو جاتی ہے۔ مغرب و عشاء کو جمع کرتے وقت مغرب کی سنتیں نہیں پڑھی جائیں گی۔ سفر کے دوران میں تہجد وغیرہ بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ دلائل کے عموم سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1458]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1459
سفر میں سنت (نفل) نہ پڑھنے کا بیان۔
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ (اب) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
1459۔ اردو حاشیہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنتیں پڑھنے پر انکار کیا کہ اگر سنتیں ہی پڑھنی ہیں تو اس کی بجائے بہتر تھا کہ فرض چار پڑھ لیے جاتے کیونکہ فرض نوافل سے زیادہ ثواب رکھتے ہیں جب کہ شریعت کا مقصد مسافر سے تخفیف کرنا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1459]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1067
سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1067]
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ حدیث میں قصر نماز کی مسافت کی بابت اجمال ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت میں تفصیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کا سفر کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے۔ (صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، حدیث: 691)
 حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت فرماتے ہیں کہ مسافت قصر کے بارے میں صحیح ترین اور صریح ترین روایت یہی ہے۔ (فتح الباري، 567/2)
 تاہم اس مسئلہ کی بابت تمام روایات اوراقوال کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز قصر کرنے کےلئے مذکورہ حدیث میں جو مسافت بیان ہوئی ہے وہ محض احتیاط کی بنا پر ہے۔
کہ آدمی اگر تین فرسخ یعنی 23، 22 کلومیٹر شہر کی حدود سے باہر جائے تو وہ نماز قصر ادا کرسکتا ہے۔
کیونکہ اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے۔
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ سے کم سفر کرتے تو اس میں قصر نہ کرتے اور نہ ہی شریعت میں مسافت قصر کی کوئی تحدید کی گئی ہے۔
بلکہ عرف میں اگر دو یا تین میل کی مسافت کو بھی سفر کہا جاتا ہو تو شرعاً اس میں بھی قصر جائز ہوگی۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اسی مسافت قصر کی بابت فرماتے ہیں۔
کہ نماز قصر کی ابتداء کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ اس کےلئے کسی مسافت کی قید نہیں بلکہ شہر کی حدود پار کرنے سے ہی سے قصر شروع ہوجاتی ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (فتح الباری 567/2)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1067]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 544
سفر میں قصر نماز پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد (سنت) نماز پڑھتا تو میں انہی (فرائض) کو پوری پڑھتا۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 544]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث 551 پر مؤلف کے یہاں آ رہی ہے،
اور ضعیف و منکر ہے۔

2؎:
یہ صحیح بخاری کی روایت ہے،
اور بیہقی کی روایت ہے کہ انہوں نے سبب یہ بیان کیا کہ پوری پڑھنی میرے لیے شاق نہیں ہے،
گویا سفر میں قصر رخصت ہے اور اتمام جائز ہے،
اور یہی راجح قول ہے۔
رخصت کے اختیار میں سنت پرعمل اور اللہ کی رضا حاصل ہوتے ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 544]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 551
سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعںیی۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 551]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی عطیہ عوفی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 551]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 552
سفر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 552]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں،
اور یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 552]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1579
حفص بن عاصم بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ کے راستہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ سفر کیا۔ انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر وہ اور ہم اپنی قیام گاہ کی طرف بڑھے اور ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اچانک انہوں نے اس جگہ کی طرف نظر دوڑائی جہاں انہوں نے نماز پڑھائی تھی تو لوگوں کو دیکھا کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا سنتیں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز پوری... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1579]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نماز کے ساتھ سفر میں سنن مؤکدہ نہیں پڑھتے تھے لیکن صبح کی سنتیں پڑھتے تھے۔
اسی طرح وتر بھی پڑھتےتھے۔
اور عام نوافل بھی سواری پر بیٹھے بیٹھے پڑھتے تھے۔
اس لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سنن مؤکدہ کا حکم نوافل والا ہو گا۔
ان کو نفل کی حیثیت سے پڑھ لیا جائے گا۔
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں نفل پڑھا کرتے تھے۔
(زاد المعاد،
طبع احیاء التراث الاسلامی:
ج،
ص: 456)

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ کے سوا تمام مقامات پر سفر میں نماز قصر پڑھتے تھے۔
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفر میں آخر عمر تک دو رکعت سے زائد فرض نہیں پڑھے۔

احناف کے نزدیک مسافر اثنائے سفر میں سنت مؤکدہ نہ پڑھے اور حالت قیام میں پڑھ لے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1579]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1580
حفص بن عاصم بیان کرتے ہیں، میں ایک بیماری میں مبتلا ہوا تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میری عیادت کے لیے آئے تو میں نے ان سے سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے کہا: میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہا ہوں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1580]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مقصد یہ ہے کہ سفر کی بنا پر مسافر کی سہولت اورآسانی کی خاطر فرض نماز میں تخفیف کر دی گئی ہے تو سنن راتبہ کی پابندی کیوں ضروری ٹھہری؟ اگر مسافر کے لیے تخفیف وسہولت مطلوب نہ ہوتی تو نماز پوری پڑھنا ہی بہتر ٹھہرتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1580]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1594
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آٹھ یا چھ سال منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی۔ حفص بیان کرتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر اپنے بستر پر آ جاتے تھے۔ میں نے کہا: اے چچا! کاش آپ فرض نماز کے بعد دو سنتیں بھی پڑھ لیا کریں تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسے کرتا تو نماز پوری پڑھ لیتا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1594]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف منیٰ میں چار رکعت پڑھنے لگے تھے۔
باقی مقامات پر دو رکعت ہی پڑھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1594]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1101
1101. حفص بن عاصم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سفر میں تھے کہ فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سفر رہا ہوں، میں نے آپ کو کبھی دوران سفر میں نفل پڑھتے نہیں دیکھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1101]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ سفرمیں خالی فرض نماز کی دو رکعتیں ظہر وعصر میں کافی ہیں سنت نہ پڑھنا بھی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1101]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1102
1102. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ دوران سفر دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اس طرح حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم بھی دو رکعت سے زیادہ نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1102]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت مسلم شریف میں یوں ہے۔
صحبت ابن عمر في طریق مکة فصلی بنا الظھررکعتین ثم أقبل وأقبلنا معه حتی جاء رحله وجلسنا معه فحانت منه التفاتة فرأی ناساً قیاما فقال ما یصنع ھولاء قلت یسبحون قال لو کنت مسبحا لأ تممت۔
(قسطلاني)
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں مکہ شریف کے سفر میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے ساتھ تھا۔
آپ نے ظہر کی دو رکعت فرض نماز قصر پڑھائی پھر کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سنت پڑھ رہے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ اگر میں سنتیں پڑھوں تو پھر فرض ہی کیوں نہ پورے پڑھ لوں۔
اگلی روایت میں مزید وضاحت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سب کا یہی عمل تھا کہ وہ سفر میں نماز قصر کرتے اور ان دورکعتوں فرض کے علاوہ کوئی سنت نماز نہیں پڑھتے تھے۔
بہت سے ناواقف بھائیوں کو سفر میں دیکھا جاتا ہے کہ وہ اہل حدیث کے اس عمل پر تعجب کیا کرتے ہیں۔
بلکہ بعض تو اظہار نفرت سے بھی نہیں چوکتے، ان لوگوں کو خود اپنی ناواقفی پر افسوس کرنا چاہیے اور معلوم ہونا چاہیے کہ حالت سفر میں جب فرض نماز کو قصر کیا جارہا ہے پھر اس وقت سنت نمازوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1102]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1082
1082. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت عثمان ؓ کے ساتھ بھی شروع خلافت میں دو ہی پڑھیں، اس کے بعد انہوں نے پوری نماز پڑھنا شروع کر دی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1082]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے منیٰ میں نماز کے متعلق واضح حکم بیان نہیں کیا کہ ان دنوں قصر پڑھنی ہے یا پوری ادا کرنی ہے کیونکہ اس میں اختلاف ہے، پھر اگر نماز قصر پڑھنی ہے تو سفر کی وجہ سے یا مناسک حج کی بنا پر۔
ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ ایام حج (منیٰ، عرفات اور مزدلفہ)
میں نماز قصر ہی پڑھی جائے، سفر حج کی وجہ سے یہ رعایت ہر حاجی کے لیے ہے، خواہ وہ مکہ مکرمہ ہی کا رہائشی ہو، البتہ حضرت عثمان ؓ نے خلافت کے 6 سال بعد کسی خاص عذر کی وجہ سے نماز پوری پڑھنی شروع کر دی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ایام منیٰ میں اگر اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعت، اگر امام کے ساتھ ادا کرتے تو چار رکعت پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(فتح الباري: 2/728، وصحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1592(694)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1082]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1102
1102. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ دوران سفر دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اس طرح حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھم بھی دو رکعت سے زیادہ نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1102]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا دوران سفر صرف نماز قصر پر اکتفا کرنا چاہیے۔
فرائض سے پہلے اور بعد میں سنت وغیرہ نہ پڑھی جائیں۔
اسوۂ نبوی یہی ہے۔
اس کی وضاحت ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔
راوئ حدیث کہتے ہیں:
میں طریق مکہ میں حضرت ابن عمر ؓ کا ہم سفر رہا ہوں۔
آپ نے ہمیں ظہر کی دو رکعت پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر قصر نماز کے بعد سنتیں پڑھنا ہوتیں تو بہتر تھا کہ قصر کے بجائے نماز کو پورا پڑھ لیا جاتا۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1579(689)
اس کے بعد حضرت ابن عمر ؓ نے مذکورہ حدیث سنائی۔
اس تفصیلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ دوران سفر نماز قصر پڑھتے تھے اور اس سے پہلے اور بعد میں کوئی سنت وغیرہ ادا نہیں کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا لیکن دیگر نوافل، مثلاً:
تہجد یا اشراق وغیرہ پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ آئندہ عنوان میں اس کے متعلق بیان ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1102]

ڈاکٹر محمد جاویدحفظ اللہ، صحیح بخاری 1101
دورانِ سفر سنتیں پڑھنے اور نہ پڑھنے کا اختلاف
دورانِ سفر فرض نمازوں سے پہلے اور بعد کی سننِ رواتب کے پڑھنے اور نہ پڑھنے میں اولیٰ کون سا موقف ہے، اس حوالہ سے اہل علم میں اختلاف ہے۔ ہم جانبین کی آراء نقل کر دیتے ہیں۔
➊ صبح کی سنتیں اور وتر:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر و حضر میں صبح کی سنتوں اور وتر کا چھوڑنا ثابت نہیں ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کے برعکس وتر سواری پہ ہی پڑھ لیا کرتے تھے جس سے محدثین نے ان کے سنت ہونے پہ استدلال فرمایا ہے جبکہ احناف ان کے وجوب کے قائل ہیں۔
➋ صلاۃِ ضحی کے نوافل:
صلاۃِ ضحی کے نوافل بھی دورانِ سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنے ثابت ہیں۔
➌ زیرِ بحث مسئلہ:
یہاں زیرِ بحث مسئلہ ظہر، مغرب اور عشاء کی سننِ رواتب کا ہے، جس میں جانبین کا اختلاف ہے۔
الف: نہ پڑھنے والوں کے دلائل
➊ ❀ حفص بن عاصم بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں مکہ کے راستہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور بیٹھ گئے۔۔۔ کچھ لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھ کر فرمایا یہ کیا کر رہے ہیں؟
میں نے کہا: سنن/ نوافل پڑھ رہے ہیں۔
فرمایا: اگر میں نے سنتیں ہی پڑھنا ہوتیں تو فرض پورے کیوں نہ پڑھ لیتا؟ بھتیجے! میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت سے زائد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان کی روح قبض کر لی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر میں رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان کی روح قبض کر لی۔ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا وہ بھی سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک ان کی روح قبض ہو گئی۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا انہوں نے بھی دو رکعت پہ اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں بھی قبض کر لیا، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [مسلم: 689]
حفص بن عاصم رحمہ اللہ سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث [بخاری: 1101، 1102] [مسلم: 689] [مسند السراج: 1387] وغیرہ کے علاوہ متعدد کتب میں الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔
➋ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دوسرے شاگرد اور ان کے بیٹے سالم رحمہ اللہ (م۔106ھ) فرماتے ہیں:
«كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ سَجْدَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَا بَعْدَهَا» [ابن خزیمہ: 1258]
➌ یہی سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع فرمائیں، ہر ایک کے ساتھ اقامت کہی۔ نہ تو ان کے درمیان کوئی نفلی نماز پڑھی، نہ ان کے بعد [بخاری: 1673]
➍ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے تیسرے شاگرد وبرہ بن عبدالرحمن (م۔116ھ) فرماتے ہیں:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں دو رکعت سے زائد نہیں پڑھا کرتے تھے، نہ پہلے نہ بعد میں۔ ان سے اس بارے پوچھا گیا تو فرمایا: «هٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُ»
یعنی میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے [نسائی: 1457] [حدیث السراج: 2126 قال الالبانی رحمہ اللہ صحیح لغیرہ]
➎ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے چوتھے شاگرد عثمان بن عبداللہ بن سراقہ رحمہ اللہ (م۔118ھ) فرماتے ہیں:
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فِي السَّفَرِ» [ابن خزیمہ: 1255 وقال الالبانی رحمہ اللہ اسنادہ صحیح علی شرط البخاری]
➏ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پانچویں شاگرد امام مجاہد رحمہ اللہ (م۔101ھ) فرماتے ہیں:
«أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى الْمَكْتُوبَةِ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا» [موطا امام محمد: 211]
➐ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے چھٹے شاگرد ان کے بیٹے عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ (م۔106ھ) اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت فرماتے ہیں:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو اس طرح جمع فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان ایک سجدہ بھی نہ کیا، مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت، ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک ایسے ہی پڑھتے رہے [مسلم: 1288]
➑ ❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے سفر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں:
«ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا» [مسلم: 1218]
ب: سنتیں پڑھنے کے قائلین کے ادلہ
➊ ❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ السَّفَرِ فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا» [ابن ماجہ: 1072، قال البوصیری رحمہ اللہ اسنادہ حسن وقال الالبانی منکر مخالف للحدیث، شرح مشکل الآثار: 4264]
➋ ❀ براء بن عازب الانصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ» [سنن ابی داؤد: 1222] [الترمذی: 550 وقال الالبانی ضعیف]
➌ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ:
«صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ» [الترمذی: 551 واللفظ لہ، 552 قال الالبانی ضعیف الاسناد]
➍ حدیث انس رضی اللہ عنہ:
«كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ» [ابن خزیمہ: 1260] [المستدرک: 1188، 1653، 2492]
اولاً تو یہ سننِ رواتب کے متعلق نہیں ہے، ثانیاً ابن خزیمہ اور المستدرک کے ایک طرق میں عبدالسلام بن ہاشم ہے جسے ابن فلاس رحمہ اللہ کذاب کہتے ہیں۔ دوسرے میں عثمان بن سعد مجہول ہے۔
خلاصہ و نتیجہ
بہرکیف ان احادیث کی روشنی میں امام الترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اہل علم میں اس باب میں اختلاف ہوا۔ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم کے نزدیک سفر میں نفل پڑھنے چاہئیں، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ رحمہما اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ جبکہ ایک گروہ کے نزدیک فرضوں سے پہلے اور بعد سنن نہیں پڑھنی چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو سفر میں سنت نہ پڑھے اس کی رخصت قبول ہے اور جو پڑھے اس کے لیے فضیلت ہے [الترمذی زیر حدیث: 550]
امام نووی رحمہ اللہ نے بھی اس کے قریب قریب لکھا ہے۔
ہم دونوں جانب کی احادیث کو دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک دورانِ سفر صبح کی سنت اور وتر کے علاوہ باقی سننِ رواتب نہ پڑھنے کا تھا۔ پڑھنے والی احادیث (حدیثِ ابن عباس، حدیثِ براء، حدیثِ ابن عمر اور حدیثِ انس رضی اللہ عنہم) نہ پڑھنے والی احادیثِ ابن عمر اور حدیثِ جابر رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں ضعیف ہیں۔
حدیثِ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ صحیح مسلم [689] صبح کی سنتوں کے متعلق ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ کے قول:
«كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُسَافِرُونَ فَيَتَطَوَّعُونَ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ وَبَعْدَهَا» [الاوسط لابن منذر]
کی ہمیں سند نہیں ملی۔
بخاری شریف کے باب «مَنْ تَطَوَّعَ فِي السَّفَرِ فِي غَيْرِ دُبُرِ الصَّلَوَاتِ وَقَبْلَهَا» کی حدیث نمبر [1103، 1104، 1105] بھی صبح، ضحی اور وتر وغیرہ کی سنن کے متعلق ہیں۔
المختصر: اس باب میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام احمد وغیرہ جو پڑھنے کے قائل ہیں وہ بھی «لا بأس» کے الفاظ استعمال کرتے ہیں یعنی ان کے پڑھ لینے میں کوئی برائی نہیں۔
ہمارے نزدیک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح کی سنتوں اور وتر کے علاوہ پڑھنا بسندِ صحیح ثابت نہیں تو سننِ رواتب کا چھوڑنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ کے مطابق اسوۂ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ معاصر اہل علم میں سے مفتی مبشر احمد ربانی، علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر، حافظ عبد الستار حماد، مولانا ابو سیف جمیل، مفتی عبد الرحمن عابد، مولانا یوسف طیبی وغیرہم کی بھی یہی رائے ہے۔
جبکہ بہت سے اہل علم پڑھنے کے بھی قائل ہیں اس لیے ہر دو کے عمل پہ نکیر مناسب ہے نہ لعن طعن۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
ڈاکٹر محمد جاوید
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Ibn Majah Hadith 1071 in Urdu