سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب : ما جاء في الكلام بعد نزول الإمام عن المنبر
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام بات چیت کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 240 (1120)، سنن الترمذی/الصلاة 256 (517)، سنن النسائی/الجمعة 36 (1420)، (تحفة الأشراف: 260) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 127، 213) (شاذ)» (جریر بن حازم اس روایت میں منفرد ہیں، یہ حدیث ثابت ہے، معروف نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1120) ترمذي (517) نسائي (1420)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1120) ترمذي (517) نسائي (1420)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
517
| يكلم بالحاجة إذا نزل عن المنبر |
سنن ابن ماجه |
1117
| كان يكلم في الحاجة إذا نزل عن المنبر يوم الجمعة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1117 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1117
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم اس قسم کا ایک واقعہ جس میں دوران خطبہ میں خطبہ چھوڑ کر سائل سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے۔
صحیح مسلم۔ (الجمعة، حدیث: 876)
میں ہے۔
علاوہ ازیں اسی قسم کا واقعہ کسی نماز کے موقع پر بھی پیش آیا تھا۔
جیسا کہ جامع ترمذی میں ہے۔
نماز کی اقامت کہہ دی گئی تو ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو اونگھ آنے لگی (جامع ترمذي حدیث: 518)
بنا بریں مسئلہ یوں ہی ہے کہ اگرامام یا کوئی شخص کوئی ضروری بات کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں مگر اہل جماعت کو اذیت نہیں ہونی چاہیے۔
فائدہ:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم اس قسم کا ایک واقعہ جس میں دوران خطبہ میں خطبہ چھوڑ کر سائل سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے۔
صحیح مسلم۔ (الجمعة، حدیث: 876)
میں ہے۔
علاوہ ازیں اسی قسم کا واقعہ کسی نماز کے موقع پر بھی پیش آیا تھا۔
جیسا کہ جامع ترمذی میں ہے۔
نماز کی اقامت کہہ دی گئی تو ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو اونگھ آنے لگی (جامع ترمذي حدیث: 518)
بنا بریں مسئلہ یوں ہی ہے کہ اگرامام یا کوئی شخص کوئی ضروری بات کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں مگر اہل جماعت کو اذیت نہیں ہونی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1117]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 517
منبر سے اترنے کے بعد امام کا بات چیت کرنا جائز ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 517]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 517]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(جریر سے وہم ہوا ہے،
واقعہ عشاء کا ہے،
نہ کہ جمعہ کا،
جیسا کہ مسلم کی حدیث نمبر370 میں ہے)
نوٹ:
(جریر سے وہم ہوا ہے،
واقعہ عشاء کا ہے،
نہ کہ جمعہ کا،
جیسا کہ مسلم کی حدیث نمبر370 میں ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 517]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري