علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
104. . باب : ما جاء فيمن فاتته الركعتان قبل صلاة الفجر متى يقضيهما
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟
حدیث نمبر: 1154
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَاةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟“، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا صبح کی نماز دو دفعہ پڑھ رہے ہو؟“ اس شخص نے عرض کیا: ”میں نے فجر سے پہلے کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں وہ (اب) پڑھی ہیں“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 295 (1267، 1268)، سنن الترمذی/الصلاة 197 (422)، (تحفة الأشراف: 11102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥قيس بن قهد الأنصاري | صحابي | |
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله محمد بن إبراهيم القرشي ← قيس بن قهد الأنصاري | ثقة | |
👤←👥سعد بن سعيد الأنصاري سعد بن سعيد الأنصاري ← محمد بن إبراهيم القرشي | صدوق سيئ الحفظ | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← سعد بن سعيد الأنصاري | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
422
| أصلاتان معا قلت يا رسول الله إني لم أكن ركعت ركعتي الفجر قال فلا إذا |
سنن أبي داود |
1267
| صلاة الصبح ركعتان فقال الرجل إني لم أكن صليت الركعتين اللتين قبلهما فصليتهما الآن فسكت رسول الله |
سنن ابن ماجه |
1154
| أصلاة الصبح مرتين فقال له الرجل إني لم أكن صليت الركعتين اللتين قبلهما فصليتهما قال فسكت النبي |
مسندالحميدي |
892
| ما هاتان الركعتان يا قيس؟ |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1154 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1154
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھنے والے یہ صحابی خود حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اپنا نام لیے بغیر واقعہ بیان فرمایا ہے۔
جامع ترمذی کی روایت میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ یہ خود ان کا واقعہ ہے۔ (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فیمن تفوته الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلاۃ الصبح، حدیث: 422)
(2)
جو کام بظاہرغلط ہو۔
اس پر ناراضی کا اظہار کرنے سے پہلے وضاحت طلب کرلینا مناسب ہے۔
تاکہ اگر وضاحت قابل قبول ہوتو فہمائش کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
ایسے امور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آئے۔
اور آپ نے ان سے منع نہیں فرمایا۔
سب جائز ہیں۔
انھیں ''تقریری سنت''کہا جاتاہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز پڑھنے والے یہ صحابی خود حضرت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اپنا نام لیے بغیر واقعہ بیان فرمایا ہے۔
جامع ترمذی کی روایت میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ یہ خود ان کا واقعہ ہے۔ (جامع الترمذي، الصلاۃ، باب ماجاء فیمن تفوته الرکعتان قبل الفجر یصلیھا بعد صلاۃ الصبح، حدیث: 422)
(2)
جو کام بظاہرغلط ہو۔
اس پر ناراضی کا اظہار کرنے سے پہلے وضاحت طلب کرلینا مناسب ہے۔
تاکہ اگر وضاحت قابل قبول ہوتو فہمائش کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاموش ہوجانا اس کام کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
ایسے امور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آئے۔
اور آپ نے ان سے منع نہیں فرمایا۔
سب جائز ہیں۔
انھیں ''تقریری سنت''کہا جاتاہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1154]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1267
جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہی رکعت ہے“، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1267]
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر دو ہی رکعت ہے“، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1267]
1267۔ اردو حاشیہ:
➊ سنتیں رہ جائیں تو بعد میں پڑھنا افضل ہے بالخصوص فجر کی سنتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
➋ فجر کی سنتیں فرضوں کے بعد ادا کر نا جائز ہے اور وہ حدیث جس میں ہے کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“ اس سے مراد عام نوافل ہیں نہ کہ اس قسم کی نماز جو کسی سبب سے پڑھی جا رہی ہو۔
➌ اگر یقین ہو کہ طلوع شمس کے انتظار میں یہ فوت نہیں ہو جائیں گی تو مؤخر کر لے۔ اسی طرح اس حدیث پر عمل ہو جائے گا کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ یا سن کر خاموش رہنا اس کی توثیق کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس حدیث سے یہ استدلال بالکل صحیح ہے کہ جو شخص فجر کی دو سنتیں فجر کی نماز سے پہلے نہیں پڑھ سکا وہ فرضوں کے بعد پڑھ سکتا ہے۔
➊ سنتیں رہ جائیں تو بعد میں پڑھنا افضل ہے بالخصوص فجر کی سنتیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سفر میں بھی نہیں چھوڑتے تھے۔
➋ فجر کی سنتیں فرضوں کے بعد ادا کر نا جائز ہے اور وہ حدیث جس میں ہے کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“ اس سے مراد عام نوافل ہیں نہ کہ اس قسم کی نماز جو کسی سبب سے پڑھی جا رہی ہو۔
➌ اگر یقین ہو کہ طلوع شمس کے انتظار میں یہ فوت نہیں ہو جائیں گی تو مؤخر کر لے۔ اسی طرح اس حدیث پر عمل ہو جائے گا کہ ”نماز فجر کے بعد نماز نہیں۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو دیکھ یا سن کر خاموش رہنا اس کی توثیق کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس حدیث سے یہ استدلال بالکل صحیح ہے کہ جو شخص فجر کی دو سنتیں فجر کی نماز سے پہلے نہیں پڑھ سکا وہ فرضوں کے بعد پڑھ سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1267]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 422
فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان۔
قیس (قیس بن عمرو بن سہل) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ۱؎ (پڑھنے جا رہے ہو؟)“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”تب کوئی حرج نہیں“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 422]
قیس (قیس بن عمرو بن سہل) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ۱؎ (پڑھنے جا رہے ہو؟)“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”تب کوئی حرج نہیں“ ۲؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 422]
اردو حاشہ:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ:
فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں،
تو یہی سمجھا جائیگا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔
2؎:
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے،
اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں،
کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے،
جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے،
نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔
1؎:
مطلب یہ ہے کہ:
فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں،
تو یہی سمجھا جائیگا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔
2؎:
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے،
اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں،
کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے،
جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے،
نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 422]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:892
892- سیدنا قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا میں صبح کی نماز کے بعد دورکعات ادا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے قیس! یہ کو ن سی دو رکعات ہیں؟“ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! میں فجر کی دورکعات (سنت ادا نہیں کرسکا تھا) تو یہ وہی دورکعات ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سفیان کہتے ہیں: عطاء بن ابی رباح اس حدیث کو سعد بن سعید کے حوالے سے روایت کرتے ہیں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:892]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر کے بعد دو رکعتیں (جو پہلے پڑھنی تھیں) پڑھی جا سکتی ہیں، وہ رکعات جو کسی بھی نماز سے پہلے کی ہوں، اگر کسی وجہ سے پہلے نہ پڑھی جا سکیں تو ان کو فرض نماز کے بعد پڑھا جا سکتا ہے، مثلا اگر نماز ظہر کی پہلی چار رکعات رہ جائیں تو وہ فرض نماز کے بعد پڑھنا درست ہے۔ بعض لوگوں کا نماز فجر کے بعد سنتیں پڑھنے سے منع کرنا درست نہیں ہے، دین اسلام جس چیز کی اجازت دے، اس کی ہمیں بھی اجازت دینی چاہیے، ورنہ سراسر گمراہی ہے، حدیث تقریری شریعت کا حصہ ہے، اور حجت ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز فجر کے بعد دو رکعتیں (جو پہلے پڑھنی تھیں) پڑھی جا سکتی ہیں، وہ رکعات جو کسی بھی نماز سے پہلے کی ہوں، اگر کسی وجہ سے پہلے نہ پڑھی جا سکیں تو ان کو فرض نماز کے بعد پڑھا جا سکتا ہے، مثلا اگر نماز ظہر کی پہلی چار رکعات رہ جائیں تو وہ فرض نماز کے بعد پڑھنا درست ہے۔ بعض لوگوں کا نماز فجر کے بعد سنتیں پڑھنے سے منع کرنا درست نہیں ہے، دین اسلام جس چیز کی اجازت دے، اس کی ہمیں بھی اجازت دینی چاہیے، ورنہ سراسر گمراہی ہے، حدیث تقریری شریعت کا حصہ ہے، اور حجت ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 891]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، سنن ترمذی 422
جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116 صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے
اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116 صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے
اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]
Sunan Ibn Majah Hadith 1154 in Urdu
محمد بن إبراهيم القرشي ← قيس بن قهد الأنصاري