سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. . باب : ما جاء فيما إذا أخروا الصلاة عن وقتها
باب: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعْنِي: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے (تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1257]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مستقبل میں ایسے حکمران ہوں گے جنہیں دوسری چیزیں نماز سے مشغول کر دیں گی اور وہ نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کر دیں گے، تم ان کے ساتھ پڑھی ہوئی اپنی نماز کو نفل سمجھ لینا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 10 (433)، (تحفة الأشراف: 5097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 387، 2/95، 3/24، 28، 5/315، 329) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
433
| صلوا الصلاة لوقتها فقال رجل يا رسول الله أصلي معهم قال نعم إن شئت |
سنن ابن ماجه |
1257
| سيكون أمراء تشغلهم أشياء يؤخرون الصلاة عن وقتها فاجعلوا صلاتكم معهم تطوعا |
Sunan Ibn Majah Hadith 1257 in Urdu
عبد الله بن كعب الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري