🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
178. . بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ
باب: قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1345
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَنَزَّلُوا الْأَحْلَافَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ، فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ:" وَلَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا"، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ:" إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ"، قَالَ أَوْسٌ: فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟، قَالُوا: ثَلَاثٌ، وَخَمْسٌ، وَسَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ".
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا (بقرہ، آل عمران اور نساء) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا (مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ)، تیسرا حزب سات سورتوں کا (یونس، ہود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نمل)، چوتھا حزب نو سورتوں کا (بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان)، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا (شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین)، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا (صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات)، اور ساتواں حزب مفصل کا (سورۃ ق سے آخر قرآن تک)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1345]
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم لوگ قبیلہ ثقیف کے وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے قریش کے حلیفوں کو تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنی ایک عمارت میں ٹھہرایا۔ (حضرت اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے اور قدموں پر کھڑے ہو کر ہم سے بات چیت فرماتے (وعظ و نصیحت کرتے جو بعض اوقات طویل ہو جاتی) حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک پاؤں پر بوجھ دے کر کھڑے ہوتے، کبھی دوسرے پر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اکثر وہ باتیں سناتے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم قریش کی طرف سے تکلیفیں پہنچی تھیں اور فرماتے: (ہم اور وہ) برابر نہیں تھے۔ ہم لوگ تو کمزور اور دبے ہوتے تھے۔ (وہ غالب اور زور آور تھے) پھر جب ہم مدینے آ گئے تو ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا توازن کم و بیش ہونے لگا، کبھی ہم ان پر غالب آتے، کبھی وہ ہمیں نقصان پہنچا جاتے۔ ایک رات ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت ہمارے پاس تشریف لایا کرتے تھے اس کی نسبت تاخیر سے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج رات آپ کو ہمارے ہاں تشریف لانے میں دیر ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری (روز مرہ کی) قرآن کی منزل پوری نہیں ہو سکی تھی۔ مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ اسے پورا کیے بغیر تمہارے پاس آؤں۔ حضرت اوس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا: آپ لوگ (روزانہ تلاوت کے لیے) قرآن مجید کے حصے کس طرح مقرر کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: (پہلا حصہ) تین سورتوں کا (بقرہ، آل عمران اور نساء)، (دوسرا حصہ) پانچ سورتوں کا (مائدہ سے براءت تک)، (تیسرا حصہ) سات سورتوں کا (یونس سے نحل تک)، (چوتھا حصہ) نو سورتوں کا (بنی اسرائیل سے فرقان تک)، (پانچواں حصہ) گیارہ سورتوں کا (شعراء سے یٰس تک)، (چھٹا حصہ) تیرہ سورتوں کا (صافات سے حجرات تک) اور (ساتواں حصہ) مفصل کا (ق سے آخر تک)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 326 (1393)، (تحفة الأشراف: 1737) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابوخالد متکلم فیہ نیز عثمان لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 246)
وضاحت: ۱؎: لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا یعنی کبھی ہمیں فتح حاصل ہوتی اور کبھی انہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1393)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أوس بن أبي أوس الثقفي، أبو إياسصحابي
👤←👥عثمان بن عبد الله الثقفي
Newعثمان بن عبد الله الثقفي ← أوس بن أبي أوس الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، أبو يعلى
Newعبد الله بن عبد الرحمن الطائفي ← عثمان بن عبد الله الثقفي
صدوق يخطئ ويهم
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1345
ولا سواء كنا مستضعفين مستذلين فلما خرجنا إلى المدينة كانت سجال الحرب بيننا وبينهم ندال عليهم ويدالون علينا فلما كان ذات ليلة أبطأ عن الوقت الذي كان يأتينا فيه فقلت يا رسول الله لقد أبطأت علينا الليلة قال إنه طرأ علي حزبي من القرآن فكرهت أن أخرج حتى أتمه
Sunan Ibn Majah Hadith 1345 in Urdu