🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب : ما جاء في النظر إلى الميت إذا أدرج في أكفانه
باب: میت کو کفن میں لپیٹتے وقت دیکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُدْرِجُوهُ فِي أَكْفَانِهِ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَانْكَبَّ عَلَيْهِ وَبَكَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: انہیں کفن میں داخل نہ کرنا جب تک کہ میں دیکھ نہ لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ان کے اوپر جھک کر روئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1708، ومصباح الزجاجة: 525) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ یوسف بن ابراہیم منکر الحدیث ہیں، بلکہ یہ صاحب عجائب کے نام سے مشہور ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو شيبة يوسف بن إبراهيم: ضعيف
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يوسف بن إبراهيم التميمي، أبو شيبة
Newيوسف بن إبراهيم التميمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن الحسن المزني
Newمحمد بن الحسن المزني ← يوسف بن إبراهيم التميمي
ثقة
👤←👥محمد بن إسماعيل الأحمسي، أبو جعفر
Newمحمد بن إسماعيل الأحمسي ← محمد بن الحسن المزني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1475
لا تدرجوه في أكفانه حتى أنظر إليه فأتاه فانكب عليه وبكى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1475 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1475
اردو حاشہ:
فائده:
یہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم دیگر ر وایات سے ثابت ہے۔
کہ میت کا چہرہ بھی دیکھنا جائز ہے۔
اور غم اور صدمے کے وجہ سے آنکھوں سے آنسووں کا جاری ہوجانا بھی قابل ملامت نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر رونا ایک اور روایت میں بھی مذکور ہے۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 1589)
 اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک سے کپڑا ہٹا کر زیارت کی اور بوسہ دیا۔ (سنن ابی ماجة، حدیث: 1457)
 یہ واقعہ غسل اور کفن سے پہلے کا ہے۔
تاہم یہ سمجھاجا سکتا ہے کہ میت کی زیارت غسل اور کفن سے پہلے بھی جائز ہے اور بعد میں بھی کیونکہ بظاہر فرق کی کوئی دلیل نہیں۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1475]