🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ
باب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنْزِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ، وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ".
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ احد کے شہیدوں کو شہادت کے مقامات پر واپس لے جانے کا حکم دیا جب کہ انہیں مدینہ لایا جا چکا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز42 (3165)، سنن الترمذی/الجہاد 37 (1717)، سنن النسائی/الجنائز 83 (2006)، (تحفة الأشراف: 3117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 297، 303، 308، 397)، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے روای نبیح لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اپنی شہادت کی جگہ سے کہیں اور منتقل نہ کئے جائیں، بلکہ جہاں وہ شہید ہوئے ہوں، وہیں ان کو دفن کر دیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نبيح بن عبد الله العنزي، أبو عمرو
Newنبيح بن عبد الله العنزي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← نبيح بن عبد الله العنزي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة حافظ حجة
👤←👥سهل بن أبي سهل الرازي، أبو عثمان، أبو عمرو
Newسهل بن أبي سهل الرازي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سهل بن أبي سهل الرازي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2006
يردوا إلى مصارعهم
سنن النسائى الصغرى
2007
ادفنوا القتلى في مصارعهم
جامع الترمذي
1717
ردوا القتلى إلى مضاجعهم
سنن أبي داود
3165
تدفنوا القتلى في مضاجعهم
سنن ابن ماجه
1516
يردوا إلى مصارعهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1516 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1516
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
شہیدوں کو وہیں دفن کیا جائے۔
جہاں ان کی شہادت ہوئی ہو یہی افضل ہے۔

(2)
خاص ضرورت کے بغیر میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں لے جا کر دفن کرنا مناسب نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1516]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3165
میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ناپسندیدہ ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں غزوہ احد کے روز ہم نے مقتولین کو کسی اور جگہ لے جا کر دفن کرنے کے لیے اٹھایا ہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آ کر اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی مضاجع شہادت گاہوں میں دفن کرو، تو ہم نے ان کو انہیں کی جگہوں پر لوٹا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3165]
فوائد ومسائل:
میت کو دفن کرنے کے بعد بغیر کسی اہم مصلحت شرعی کے وہاں سے منتقل کرنا مکروہ ہے۔
(سنن أبي دائود، الجنائز، رقم: 32329) البتہ دفن سے پہلے منتقل کیا جاسکتا ہے۔
اور بالخصوص شہداء کو وہیں دفن کیا جائے۔
جہاں ان کی شہادت ہوئی ہو یہی افضل ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3165]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2007
شہید کہاں دفن کیا جائے؟
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2007]
اردو حاشہ:
(1) اس حکم کی توجیہ حدیث نمبر 2005 کے تحت بیان ہوچکی ہے۔
(2) جنگ احد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے تھے، اس لیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا اس فرمان سے خصوصی تعلق تھا۔
(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ لوگ اپنے قریبی شہداء کی لاشیں مدینہ لے گئے ہیں، جیسا کہ حدیث: 2006 میں ہے، مزید لاشیں لے جانے کا امکان بھی تھا، اس لیے آپ نے یہ حکم جاری فرمایا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2007]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1717
مقتول کو قتل گاہ ہی میں دفن کر دینے کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ احد کے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے پکارا: مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹا دو (دفن کرو) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1717]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حکم شہداء کے لیے خاص ہے،
حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ شہداء موت و حیات اور بعث و حشر میں بھی ایک ساتھ رہیں،
عام میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اشد ضرورت کے تحت منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے،
شرط یہ ہے کہ نعش کی بے حرمتی نہ ہو اور آب وہوا کے اثر سے اس میں کوئی تغیر نہ ہو،
سعید ابن ابی وقاص کو صحابہ کی موجود گی میں مدینہ منتقل کیا گیاتھا،
کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کے را وی نبیح عنزی لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1717]

Sunan Ibn Majah Hadith 1516 in Urdu