🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب : ما جاء في الأوقات التي لا يصلى فيها على الميت ولا يدفن
باب: نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2782، ومصباح الزجاجة: 542) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/336، 349) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف اور ولید بن مسلم مدلس راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3974)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة و أبو الزبير: عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← محمد بن مسلم القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
ثقة
👤←👥العباس بن عثمان البجلي، أبو الفضل
Newالعباس بن عثمان البجلي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1522
صلوا على موتاكم بالليل والنهار
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1522 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1522
اردو حاشہ:
فائدہ:
حدیث (1519)
میں جو مکروہ اوقات ذکر ہوئے ہیں۔
ان کے علاوہ کسی بھی وقت نما ز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔
لیکن رات کو جنازہ پڑھنے میں حاضری کم ہوگی۔
بہت سے مسلمانوں کو اطلاع نہیں ہوسکے گی۔
یا اطلاع کے باوجود ان کو حاضر ہونے میں مشقت ہوگی۔
اس لئے بہتر ہے کہ ایسے وقت جنازہ پڑھا جائے۔
جب زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوسکیں۔
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے۔
تاہم دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ مکروہ اوقات کے علاوہ ہروقت نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1522]