سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : ما جاء في الصلاة على القبر
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا، وَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: ”تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟“، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”فلاں خاتون ہے (یہ ان کی قبر ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، فرمایا: ”تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟“ انہوں نے کہا: ”آپ دوپہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے، تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں نہ کیا کرو۔ مجھے (تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہرگز خبر نہ ملے۔ جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو، مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 94 (2024)، (تحفة الأشراف: 11824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يزيد بن ثابت الأنصاري | صحابي | |
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد خارجة بن زيد الأنصاري ← يزيد بن ثابت الأنصاري | ثقة | |
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل عثمان بن حكيم الأوسي ← خارجة بن زيد الأنصاري | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← عثمان بن حكيم الأوسي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2024
| لا يموت فيكم ميت ما دمت بين أظهركم إلا آذنتموني به فإن صلاتي له رحمة |
سنن ابن ماجه |
1528
| ألا آذنتموني بها قالوا كنت قائلا صائما فكرهنا أن نؤذيك قال فلا تفعلوا لا أعرفن ما مات فيكم ميت ما كنت بين أظهركم إلا آذنتموني به فإن صلاتي عليه له رحمة أتى القبر فصففنا خلفه فكبر عليه أربعا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1528 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1528
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام صحابہ کی خبر گیری فرماتے تھے۔
اگرچہ کوئی بظاہر معمولی حیثیت کا حامل ہو۔
لیڈر اور سربراہ کا اپنے کارکنوں سے اس طرح کا تعلق ہونا چاہیے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا خیال کیا اور تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔
چھوٹوں کو بزرگوں کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے۔
(3)
قبر پر جنازہ پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو دفن سے پہلے میت کا جنازہ پڑھنے کا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام صحابہ کی خبر گیری فرماتے تھے۔
اگرچہ کوئی بظاہر معمولی حیثیت کا حامل ہو۔
لیڈر اور سربراہ کا اپنے کارکنوں سے اس طرح کا تعلق ہونا چاہیے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا خیال کیا اور تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔
چھوٹوں کو بزرگوں کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے۔
(3)
قبر پر جنازہ پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو دفن سے پہلے میت کا جنازہ پڑھنے کا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1528]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2024
قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
اردو حاشہ:
کوئی میت بغیر جنازے کے دفن کر دی جائے تو اس صورت میں قبر پر جنازہ پڑھنا متفقہ مسئلہ ہے، البتہ نماز جنازہ کے ساتھ دفن کی جانے والی میت کا قبر پر جنازہ پڑھنا اختلافی مسئلہ ہے۔ یہ حدیث جواز کی دلیل ہے۔ عدم جواز کے قائلین اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بناتے ہیں مگر آپ کا ہر عمل اس کے مشروع عام ہونے کی دلیل ہوتا ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ ہو اور یہاں تخصیص کی دلیل نہیں۔ علاوہ ازیں صحابہ کا ساتھ کھڑا ہونا تخصیص کے خلاف جاتا ہے، اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ بالتبع کھڑے ہوئے تھے، بہرصورت جواز تو ثابت ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے حدیث: 1971۔
کوئی میت بغیر جنازے کے دفن کر دی جائے تو اس صورت میں قبر پر جنازہ پڑھنا متفقہ مسئلہ ہے، البتہ نماز جنازہ کے ساتھ دفن کی جانے والی میت کا قبر پر جنازہ پڑھنا اختلافی مسئلہ ہے۔ یہ حدیث جواز کی دلیل ہے۔ عدم جواز کے قائلین اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بناتے ہیں مگر آپ کا ہر عمل اس کے مشروع عام ہونے کی دلیل ہوتا ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ ہو اور یہاں تخصیص کی دلیل نہیں۔ علاوہ ازیں صحابہ کا ساتھ کھڑا ہونا تخصیص کے خلاف جاتا ہے، اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ بالتبع کھڑے ہوئے تھے، بہرصورت جواز تو ثابت ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے حدیث: 1971۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2024]
Sunan Ibn Majah Hadith 1528 in Urdu
خارجة بن زيد الأنصاري ← يزيد بن ثابت الأنصاري