🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب : ما جاء في الصلاة على القبر
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا، وَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: فلاں خاتون ہے (یہ ان کی قبر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، فرمایا: تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟ انہوں نے کہا: آپ دوپہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے، تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں نہ کیا کرو۔ مجھے (تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہرگز خبر نہ ملے۔ جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو، مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 94 (2024)، (تحفة الأشراف: 11824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يزيد بن ثابت الأنصاريصحابي
👤←👥خارجة بن زيد الأنصاري، أبو زيد
Newخارجة بن زيد الأنصاري ← يزيد بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل
Newعثمان بن حكيم الأوسي ← خارجة بن زيد الأنصاري
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← عثمان بن حكيم الأوسي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2024
لا يموت فيكم ميت ما دمت بين أظهركم إلا آذنتموني به فإن صلاتي له رحمة
سنن ابن ماجه
1528
ألا آذنتموني بها قالوا كنت قائلا صائما فكرهنا أن نؤذيك قال فلا تفعلوا لا أعرفن ما مات فيكم ميت ما كنت بين أظهركم إلا آذنتموني به فإن صلاتي عليه له رحمة أتى القبر فصففنا خلفه فكبر عليه أربعا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1528 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1528
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام صحابہ کی خبر گیری فرماتے تھے۔
اگرچہ کوئی بظاہر معمولی حیثیت کا حامل ہو۔
لیڈر اور سربراہ کا اپنے کارکنوں سے اس طرح کا تعلق ہونا چاہیے۔

(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا خیال کیا اور تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔
چھوٹوں کو بزرگوں کا اسی طرح خیال رکھنا چاہیے۔

(3)
قبر پر جنازہ پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو دفن سے پہلے میت کا جنازہ پڑھنے کا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1528]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2024
قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیری۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2024]
اردو حاشہ:
کوئی میت بغیر جنازے کے دفن کر دی جائے تو اس صورت میں قبر پر جنازہ پڑھنا متفقہ مسئلہ ہے، البتہ نماز جنازہ کے ساتھ دفن کی جانے والی میت کا قبر پر جنازہ پڑھنا اختلافی مسئلہ ہے۔ یہ حدیث جواز کی دلیل ہے۔ عدم جواز کے قائلین اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بناتے ہیں مگر آپ کا ہر عمل اس کے مشروع عام ہونے کی دلیل ہوتا ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ ہو اور یہاں تخصیص کی دلیل نہیں۔ علاوہ ازیں صحابہ کا ساتھ کھڑا ہونا تخصیص کے خلاف جاتا ہے، اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ بالتبع کھڑے ہوئے تھے، بہرصورت جواز تو ثابت ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے حدیث: 1971۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2024]

Sunan Ibn Majah Hadith 1528 in Urdu