علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب : ما جاء في الشق
باب: صندوقی قبر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ، وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا، وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ، فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں (پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 739، ومصباح الزجاجة: 555)، وقد أخرجہ: مسند احمد30/139) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ لحد بناتے تھے اور عبیدہ رضی اللہ عنہ صندوقی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1557
| لما توفي النبي كان بالمدينة رجل يلحد وآخر يضرح فقالوا نستخير ربنا ونبعث إليهما فأيهما سبق تركناه فأرسل إليهما فسبق صاحب اللحد فلحدوا للنبي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1557 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1557
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین دونوں طرح قبر بنانا جائز سمجھتے تھے۔
اس لئے دونوں کو بلایا گیا۔
اور یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی فوت ہونے والوں کے لئے اپنےاپنے طریقے سے قبر تیار کرتے تھے۔
اگر ان میں سے کوئی طریقہ ممنوع ہوتا۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیتے۔
مثلاً صندوقی (شق والی)
قبر بنانے والے کو حکم دے دیتے کہ وہ آئندہ بغلی (لحد والی)
قبر بنایا کرے۔
(2)
بغلی قبر اصلی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی انداز کی قبر پسند فرمائی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین دونوں طرح قبر بنانا جائز سمجھتے تھے۔
اس لئے دونوں کو بلایا گیا۔
اور یہ دونوں حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی فوت ہونے والوں کے لئے اپنےاپنے طریقے سے قبر تیار کرتے تھے۔
اگر ان میں سے کوئی طریقہ ممنوع ہوتا۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیتے۔
مثلاً صندوقی (شق والی)
قبر بنانے والے کو حکم دے دیتے کہ وہ آئندہ بغلی (لحد والی)
قبر بنایا کرے۔
(2)
بغلی قبر اصلی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی انداز کی قبر پسند فرمائی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1557]
Sunan Ibn Majah Hadith 1557 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري