سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب : ما جاء في النهي عن البناء على القبور وتجصيصها والكتابة عليها
باب: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْقَبْرِ شَيْءٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1563]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر کوئی چیز لکھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 96 (2029)، (تحفة الأشراف: 2274)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 76 (3226)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 196، 586)»
وضاحت: ۱؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے جو لوگ قبر پر لگاتے ہیں، جس میں میت کی تاریخ وفات اور اوصاف و فضائل درج کئے جاتے ہیں، بعض علماء نے کہا ہے کہ ممانعت سے مراد اللہ یا رسول اللہ کا نام لکھنا ہے، یا قرآن مجید کی آیتیں لکھنا ہے کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ پیشاب وغیرہ کر دیتا ہے جس سے ان چیزوں کی توہین ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1563
| يكتب على القبر شيء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1563 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1563
اردو حاشہ:
فائده:
اس سے معلوم ہوا کہ فوت ہونے والے کا نام اور تاریخ وفات بھی نہیں لکھنی چاہیے۔
نشانی کے لئے کوئی پتھر وغیرہ رکھ دینا کافی ہے۔
فائده:
اس سے معلوم ہوا کہ فوت ہونے والے کا نام اور تاریخ وفات بھی نہیں لکھنی چاہیے۔
نشانی کے لئے کوئی پتھر وغیرہ رکھ دینا کافی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1563]
Sunan Ibn Majah Hadith 1563 in Urdu
سليمان بن موسى القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري