🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب : ما جاء في الصبر على المصيبة
باب: مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17774، ومصباح الزجاجة: 578) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1106)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بے حقیقت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف
ولحديثه شواھدضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥مصعب بن محمد القرشي
Newمصعب بن محمد القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق حسن الحديث
👤←👥موسى بن عبيدة الربذي، أبو عبد العزيز
Newموسى بن عبيدة الربذي ← مصعب بن محمد القرشي
منكر الحديث
👤←👥محمد بن الزبرقان الأهوازي، أبو همام
Newمحمد بن الزبرقان الأهوازي ← موسى بن عبيدة الربذي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن عمرو الضبعي، أبو العباس
Newالوليد بن عمرو الضبعي ← محمد بن الزبرقان الأهوازي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1599
أيما أحد من المؤمنين أصيب بمصيبة فليتعز بمصيبته بي عن المصيبة التي تصيبه بغيري فإن أحدا من أمتي لن يصاب بمصيبة بعدي أشد عليه من مصيبتي
المعجم الصغير للطبراني
350
من أصيب منكم بمصيبة من بعدي فليتعز بمصيبته بي عن مصيبته التى تصيبه ، فإنه لن يصاب أحد من أمتي بعدي بمثل مصيبته بي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1599 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1599
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں بھی امت کا خیال تھا۔
چنانچہ جب انھیں نیکی پر قائم دیکھا تو بہت خوشی ہوئی۔

(2)
جب مصیبت پر صبر مشکل محسوس ہورہا ہو تو سوچے کہ اگر میرا عزیز یا بزرگ فوت ہوگیا ہے۔
تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔
یہاں جو بھی آیا اسے جانا ہے۔
جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم شخصیت کی بھی وفات ہوگئی۔
تو پھر اور کون ہے۔
جو ہمیشہ زندہ رہے۔

(3)
حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب کوئی مصیبت آئے تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آنے والی مصیبتوں اور مشکلات کو یاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو پیش نظر رکھ کر صبرکرے۔
جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مشکل اور مصیبت کے موقع پر صبرکیا۔
اور مصائب پر جزع فزع کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
اسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1599]