الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب : ذكر وفاته ودفنه صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ، وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 80 (5187)، (تحفة الأشراف: 7156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن دينار القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1632
| نتقي الكلام والانبساط إلى نسائنا على عهد رسول الله مخافة أن ينزل فينا القرآن فلما مات رسول الله تكلمنا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1632 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1632
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ بات کرتے ہوئے بھی احتیاط کرتے تھے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر قوی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس ہی میں نہیں بلکہ گھروں میں تنہائی میں بھی اپنے اقوال وافعال میں اسی طرح محتاط رہتے تھے۔
(3)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست ہماری باتیں سن رہے ہیں۔
اور ہمارے اعمال دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ عقیدہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے ہمارے اعمال کی اطلاع ہوسکتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ بات کرتے ہوئے بھی احتیاط کرتے تھے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ایمان اس قدر قوی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس ہی میں نہیں بلکہ گھروں میں تنہائی میں بھی اپنے اقوال وافعال میں اسی طرح محتاط رہتے تھے۔
(3)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست ہماری باتیں سن رہے ہیں۔
اور ہمارے اعمال دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ عقیدہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے ہمارے اعمال کی اطلاع ہوسکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1632]
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي