سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : ما جاء في صيام ثلاثة أيام من كل شهر
باب: ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟، قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 36 (1160)، سنن ابی داود/الصوم 70 (2453)، سنن الترمذی/الصوم 54 (763)، سنن النسائی/الصوم 51 (2417)، (تحفة الأشراف: 17966) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2744
| لم يكن يبالي من أي أيام الشهر يصوم |
جامع الترمذي |
746
| يصوم من الشهر السبت والأحد والاثنين ومن الشهر الآخر الثلاثاء والأربعاء والخميس |
جامع الترمذي |
763
| يصوم ثلاثة أيام من كل شهر قالت نعم قلت من أيه كان يصوم قالت كان لا يبالي من أيه صام |
سنن ابن ماجه |
1709
| يصوم ثلاثة أيام من كل شهر قلت من أيه قالت لم يكن يبالي من أيه كان |
سنن النسائى الصغرى |
2417
| يصوم من كل شهر ثلاثة أيام أول اثنين من الشهر ثم الخميس ثم الخميس الذي يليه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1709 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1709
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس سے معلو م ہوا کہ مہینے کے درمیانی ایام کے علاوہ بھی کوئی سے تین دن روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقا ت بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کرتے تھے تا کہ وجوب نہ سمجھا جائے اس طرح آ پ بعض دفعہ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے چنانچہ جن صحا بہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدائی دن آئے انھوں نے اس کے مطابق بیان کر دیا اس لئے ان دونو ں یعنی ایا م بیض اور ابتدائی ایا م میں روزے رکھنے میں کوئی منافات نہیں۔
تاہم افضل یہی ہے کہ ایام بیض کے 3 روزے رکھے جائیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر 1707میں گزر چکا ہے۔
فوائد و مسائل:
اس سے معلو م ہوا کہ مہینے کے درمیانی ایام کے علاوہ بھی کوئی سے تین دن روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقا ت بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کرتے تھے تا کہ وجوب نہ سمجھا جائے اس طرح آ پ بعض دفعہ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے چنانچہ جن صحا بہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدائی دن آئے انھوں نے اس کے مطابق بیان کر دیا اس لئے ان دونو ں یعنی ایا م بیض اور ابتدائی ایا م میں روزے رکھنے میں کوئی منافات نہیں۔
تاہم افضل یہی ہے کہ ایام بیض کے 3 روزے رکھے جائیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر 1707میں گزر چکا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1709]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 746
سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ (سنیچر)، اتوار اور سوموار (دوشنبہ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 746]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ (سنیچر)، اتوار اور سوموار (دوشنبہ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 746]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)
نوٹ:
(سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 746]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2744
معاذہ عددیہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں تو میں نے پوچھا مہینے کے کن دنوں میں کن تاریخوں میں روزہ رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا اس کی فکر واہتمام نہیں فرماتے تھے مہینہ کے کن دنوں میں روزہ رکھیں یعنی جن دنوں چاہتے ر وزہ رکھ لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2744]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معین اور مستقل دستور نہ تھا لیکن آپ ساتھیوں کو ایام ابیض 13۔
14۔
15۔
تاریخ کے روزہ رکھنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے اگرصرف تین روزے رکھتے ہوں تو یہی افضل ہیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معین اور مستقل دستور نہ تھا لیکن آپ ساتھیوں کو ایام ابیض 13۔
14۔
15۔
تاریخ کے روزہ رکھنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے اگرصرف تین روزے رکھتے ہوں تو یہی افضل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2744]
معاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق