سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في ذكر الخوارج
باب: خوارج کا بیان۔
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ" أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً،" حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا“، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 174]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک جماعت پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں گزرے گا، جب بھی (ان میں سے) کوئی گروہ ظاہر ہوگا، کاٹ دیا جائے گا۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات: ”جب کوئی گروہ ظاہر ہوگا، کاٹ دیا جائے گا۔“ بیس سے زیادہ دفعہ سنی ہے۔“ اور فرمایا: ”حتیٰ کہ ان میں سے دجال ظاہر ہوگا۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7758، ومصباح الزجاجة: 67) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: ختم کر دیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہو گا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کر دیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة مأمون | |
👤←👥يحيى بن حمزة الحضرمي، أبو عبد الرحمن يحيى بن حمزة الحضرمي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي | ثقة رمي بالقدر | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← يحيى بن حمزة الحضرمي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6932
| يمرقون من الإسلام مروق السهم من الرمية |
سنن ابن ماجه |
174
| ينشأ نشء يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم كلما خرج قرن قطع قال ابن عمر سمعت رسول الله يقول كلما خرج قرن قطع أكثر من عشرين مرة حتى يخرج في عراضهم الدجال |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 174 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث174
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوارج کے غلط خیالات سے تھوڑے لوگ متاثر ہوں گے، اکثر مسلمان ان کے معاملہ میں حق پر قائم رہیں گے۔
اور وہ ان گمراہوں سے جنگ کر کے ان کا قلع قمع کرتے رہیں گے۔
(2)
یہ گمراہی امت میں بعد کے زمانوں میں بھی ظاہر ہوتی رہے گی، تاہم ان کا مقابلہ کرنے والے اہل حق اپنا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔
(3)
معلوم ہوتا ہے کہ دجال بھی اسی انداز سے باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا۔
اس کو اور اس کے گروہ کو حضرت عیسی علیہ السلام کاٹ دیں گے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوارج کے غلط خیالات سے تھوڑے لوگ متاثر ہوں گے، اکثر مسلمان ان کے معاملہ میں حق پر قائم رہیں گے۔
اور وہ ان گمراہوں سے جنگ کر کے ان کا قلع قمع کرتے رہیں گے۔
(2)
یہ گمراہی امت میں بعد کے زمانوں میں بھی ظاہر ہوتی رہے گی، تاہم ان کا مقابلہ کرنے والے اہل حق اپنا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔
(3)
معلوم ہوتا ہے کہ دجال بھی اسی انداز سے باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا۔
اس کو اور اس کے گروہ کو حضرت عیسی علیہ السلام کاٹ دیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 174]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6932
6932. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے ایک مرتبہ حروریہ کا ذکر کیا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا: ”وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر کمان سے باہر ہو جاتا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6932]
حدیث حاشیہ:
حرورا نامی بستی کی طرف نسبت ہے جہاں سے خارجیوں کا رئیس نجدہ عامری نکلا تھا۔
حرورا نامی بستی کی طرف نسبت ہے جہاں سے خارجیوں کا رئیس نجدہ عامری نکلا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6932]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6932
6932. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے ایک مرتبہ حروریہ کا ذکر کیا اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا: ”وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر کمان سے باہر ہو جاتا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6932]
حدیث حاشیہ:
(1)
واضح رہے کہ حروریہ، حروراء نامی بستی کی طرف منسوب ہیں، جہاں سے خوارج کا رئیس نجدہ عامری نکلا تھا۔
ان لوگوں کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے قرآن کریم میں حق کے بغیر تاویلات کا دروازہ کھولا، اس بنا پر فکری انحطاط میں مبتلا ہوئے اور ظاہری دینداری کے باوجود انھیں کچھ حاسل نہ ہوا۔
انھیں دنیا میں ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور آخرت میں بھی نہ صرف ثواب سے محروم ہوں گے بلکہ انھیں طرح طرح کے عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ پہلی حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حروریہ کے متعلق توقف فرمایا تھا، اس حدیث سے وضاحت کر دی کہ مذکورہ توقف اس بنا پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام لے کر ان کے اوصاف بیان نہیں کیے تھے، البتہ ان اوصاف کے مصداق یہ خوارج ہیں جنھیں حروریہ کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی وضاحت کی ہے۔
(فتح الباري: 362/12)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام نوی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ان خوارج کو کافر سمجھتے تھے اور انھیں اس امت اجابت سے خارج خیال کرتے تھے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 361/12)
(1)
واضح رہے کہ حروریہ، حروراء نامی بستی کی طرف منسوب ہیں، جہاں سے خوارج کا رئیس نجدہ عامری نکلا تھا۔
ان لوگوں کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے قرآن کریم میں حق کے بغیر تاویلات کا دروازہ کھولا، اس بنا پر فکری انحطاط میں مبتلا ہوئے اور ظاہری دینداری کے باوجود انھیں کچھ حاسل نہ ہوا۔
انھیں دنیا میں ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور آخرت میں بھی نہ صرف ثواب سے محروم ہوں گے بلکہ انھیں طرح طرح کے عذاب سے دوچار کیا جائے گا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ پہلی حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حروریہ کے متعلق توقف فرمایا تھا، اس حدیث سے وضاحت کر دی کہ مذکورہ توقف اس بنا پر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام لے کر ان کے اوصاف بیان نہیں کیے تھے، البتہ ان اوصاف کے مصداق یہ خوارج ہیں جنھیں حروریہ کہا جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی وضاحت کی ہے۔
(فتح الباري: 362/12)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام نوی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ان خوارج کو کافر سمجھتے تھے اور انھیں اس امت اجابت سے خارج خیال کرتے تھے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 361/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6932]
Sunan Ibn Majah Hadith 174 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي