سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في ذكر الخوارج
باب: خوارج کا بیان۔
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَقُولُ:" شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا"، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ، قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے“ ۱؎۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3000)، (تحفة الأشراف: 4935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 253، 256) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہوگئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض» ”اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو“، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا، اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بے کار نہ جائیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥حزور الباهلي، أبو غالب حزور الباهلي ← صدي بن عجلان الباهلي | صدوق يخطئ | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← حزور الباهلي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥سهل بن أبي سهل الرازي، أبو عثمان، أبو عمرو سهل بن أبي سهل الرازي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3000
| كلاب النار شر قتلى تحت أديم السماء خير قتلى من قتلوه ثم قرأ يوم تبيض وجوه وتسود وجوه إلى آخر الآية |
سنن ابن ماجه |
176
| شر قتلى قتلوا تحت أديم السماء وخير قتلى من قتلوا كلاب أهل النار قد كان هؤلاء مسلمين فصاروا كفارا |
المعجم الصغير للطبراني |
3
| ما صنع الشيطان بهذه الأمة يقولها ثلاثا شر قتلى تحت ظل السماء هؤلاء خير قتلى تحت ظل السماء من قتله هؤلاء هؤلاء كلاب النار |
المعجم الصغير للطبراني |
67
| الخوارج كلاب النار |
مسندالحميدي |
932
| كلاب أهل النار، كلاب أهل النار، كلاب أهل النار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 176 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث176
اردو حاشہ:
(1)
اس میں خارجیوں کی شدید مذمت ہے اور ان کے کافر اور دوزخی ہونے کی صراحت ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں، جن کی وجہ سے انہیں اسلام سے نکل کر کفر اختیار کر لینے والے قرار دیا گیا ہے۔
(3)
خارجیوں سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کو بلند مقام اور فضیلت حاصل ہے۔
(4)
اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے خارجیوں سے جنگ کی اور ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
(1)
اس میں خارجیوں کی شدید مذمت ہے اور ان کے کافر اور دوزخی ہونے کی صراحت ہے۔
(2)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں، جن کی وجہ سے انہیں اسلام سے نکل کر کفر اختیار کر لینے والے قرار دیا گیا ہے۔
(3)
خارجیوں سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کو بلند مقام اور فضیلت حاصل ہے۔
(4)
اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے خارجیوں سے جنگ کی اور ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 176]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:932
932- ابوغالب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے مشق کی سیڑھی پر خارجیوں کے سر ملاحظہ کیے، تو ارشاد فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔“ پھر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روپڑے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: ”یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین افراد ہیں۔“ اور سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جوان کے ساتھ جنگ کریں گے۔ (میں نے دریافت کیا) کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں (اگر نہ سنی ہو ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:932]
فائدہ:
اس حدیث میں خارجیوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو ہر کسی کو کافر کہتے ہیں اور ان کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے ہیں، اور بے جا مسلمانوں کوقتل کرتے ہیں، ایسے لوگ جہنمی ہیں ہمیں بھی پاکستان میں کچھ ایسے ہی تکفیری اور خارجی لوگوں سے واسطہ ہے، جو خفیہ انداز سے دہشت گردی پر تلے ہوئے ہیں، اور پاکستان کے ہزاروں مسلمانوں کو خودکش حملوں کی صورت میں قتل کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔ نیز اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام سچے انسان تھے، وہ جھوٹ سے کوسوں دور تھے۔
اس حدیث میں خارجیوں کی مذمت بیان کی گئی ہے، جو ہر کسی کو کافر کہتے ہیں اور ان کے خلاف خروج کو جائز سمجھتے ہیں، اور بے جا مسلمانوں کوقتل کرتے ہیں، ایسے لوگ جہنمی ہیں ہمیں بھی پاکستان میں کچھ ایسے ہی تکفیری اور خارجی لوگوں سے واسطہ ہے، جو خفیہ انداز سے دہشت گردی پر تلے ہوئے ہیں، اور پاکستان کے ہزاروں مسلمانوں کو خودکش حملوں کی صورت میں قتل کر چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔ نیز اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابہ کرام سچے انسان تھے، وہ جھوٹ سے کوسوں دور تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 931]
حزور الباهلي ← صدي بن عجلان الباهلي