🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : ما جاء في عمال الصدقة
باب: زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 4 (1585)، سنن الترمذی/الزکاة 19 (646)، (تحفة الأشراف: 847) (حسن)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 1413)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1585) ترمذي (642)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سعد بن سنان الكندي
Newسعد بن سنان الكندي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق له أفراد
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← سعد بن سنان الكندي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى
Newعيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
646
المعتدي في الصدقة كمانعها
سنن أبي داود
1585
المعتدي في الصدقة كمانعها
سنن ابن ماجه
1808
المعتدي في الصدقة كمانعها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1808 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1808
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زکاۃ کے معاملے میں زیادتی کرنے والے سے مراد زکاۃ وصول کرنے والا وہ اہل کار ہے جو شرعی طور پر مقررہ مقدار سے زیادہ زکاۃ طلب کرتا ہے، یا درمیانے درجے کے جانور وصول کرنے کے بجائے بہترین جانور طلب کرتا ہے۔
ایسا اہل کار اسی طرح گناہ گار ہے جس طرح وہ شخص گناہگار ہے جس پر زکاۃ واجب ہو اور وہ ادائیگی سے انکار کردے، یعنی یہ کبیرہ گناہ ہے۔
اس شخص کو زکاۃ نہ دینے والے سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کی زیادتی کی وجہ سے لوگوں میں زکاۃ نہ دینے کی خواہش پیدا ہو تی ہے اور وہ حیلے بہانوں سے زکاۃ روک لیتے ہیں۔
زکاۃ کے معاملے میں زیادتی کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جو زکاۃ یا صدقات غیر مستحق افراد کو دیتا ہے لیکن وہ شخص اس صورت میں خطا کار سمجھا جائے گا جب اسے معلوم ہو کہ جس شخص کو زکاۃ دی جا رہی ہے وہ حقیقت میں اس کا مستحق نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1808]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1585
چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1585]
1585. اردو حاشیہ: یعنی جو عامل زکوۃ لینے میں ظلم کرتا ہو، اس کا گناہ ایسے ہی ہے جیسے زکوۃ نہ دینا۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ظالم عامل، مانع زکوۃ ہے۔ یعنی اس کے ظلم کے باعث لوگ اپنا مال چھپائیں گے، جھوٹ بولیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے، اس لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ آج کل کے ٹیکسوں کے نظام کی ناکامی بھی ظلم اور خیانت کے باعث ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1585]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 646
زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والے کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 646]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی یزید بن ابی حبیب اور انس کے درمیان جو راوی ہیں ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،
لیث بن سعد نے سعد بن سنان کہا ہے اور عمرو بن حارث اور لہیعہ نے سنان بن سعد کہا ہے،
امام بخاری نے عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ کے قول کو صحیح کہا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 646]