سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الصدقة على ذي قرابة
باب: رشتے دار کو صدقہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1835
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ"، فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ: أَيُجْزِينِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ، وَبَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ؟، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ:" وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں (اور پیسے کماتی تھیں)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1835]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔“ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”کیا میرے لیے یہ صدقہ کافی (اور درست) ہو گا کہ میں اپنے خاوند کو صدقہ دے دوں کیونکہ وہ نادار ہیں اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں اور میں ان کا فلاں فلاں خرچ برداشت کرتی ہوں اور ہر حال میں (ان سے مالی تعاون کرتی ہوں۔)“ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ راوی نے کہا: ”حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہاتھوں سے کام کرنے والی (ہنرمند خاتون) تھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18268)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 48 (1467)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (1001) (صحیح)» (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، جس میں یہ صراحت ہے کہ یہی سائلہ تھیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1835
| أيجزيني من الصدقة أن أتصدق على زوجي وهو فقير وبني أخ لي أيتام وأنا أنفق عليهم هكذا وهكذا وعلى كل حال قال نعم قال وكانت صناع اليدين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1835 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1835
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی بچوں کا خرچ مرد کے ذمے ہے، عورت کے ذمے مرد یا بچوں کا خرچ نہیں، اس لیے مرد کا بیوی بچوں پر خرچ کرنا زکاۃ شمار نہیں ہو سکتا، البتہ بیوی کا خاوند پر خرچ کرنا اور بچوں کا خرچ برداشت کرنا صدقہ ہو گا۔
زکاۃ بھی ایک صدقہ ہی ہے جو فرض ہے اس لیے بیوی خاوند کو زکاۃ دے سکتی ہے جب کہ خاوند نادار ہو اور بیوی صاحب نصاب ہو۔
عورت بھی مرد کی طرح ملکیت کا مستقل حق رکھتی ہے۔
وہ تجارت، دستکاری یا ملازمت سے بھی رقم حاصل کر سکتی ہے اور والدین خاوند یا دیگر رشتہ داروں کے ترکے میں حصے کی بھی حق دار ہے تاہم اسے چاہیے کہ ایسی ملازمت یا کاروبار اختیار کرے جسے مردوں سے الگ تھلگ رہ کر جاری رکھنا ممکن ہو، او رمرد کی ہوس زدہ نگاہوں سے بھی محفوظ رہے۔
اقارب اگر امداد کے مستحق ہوں تو ان کی مالی امداد کا ثواب دوسروں کو صدقہ دینے سے زیادہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بیوی بچوں کا خرچ مرد کے ذمے ہے، عورت کے ذمے مرد یا بچوں کا خرچ نہیں، اس لیے مرد کا بیوی بچوں پر خرچ کرنا زکاۃ شمار نہیں ہو سکتا، البتہ بیوی کا خاوند پر خرچ کرنا اور بچوں کا خرچ برداشت کرنا صدقہ ہو گا۔
زکاۃ بھی ایک صدقہ ہی ہے جو فرض ہے اس لیے بیوی خاوند کو زکاۃ دے سکتی ہے جب کہ خاوند نادار ہو اور بیوی صاحب نصاب ہو۔
عورت بھی مرد کی طرح ملکیت کا مستقل حق رکھتی ہے۔
وہ تجارت، دستکاری یا ملازمت سے بھی رقم حاصل کر سکتی ہے اور والدین خاوند یا دیگر رشتہ داروں کے ترکے میں حصے کی بھی حق دار ہے تاہم اسے چاہیے کہ ایسی ملازمت یا کاروبار اختیار کرے جسے مردوں سے الگ تھلگ رہ کر جاری رکھنا ممکن ہو، او رمرد کی ہوس زدہ نگاہوں سے بھی محفوظ رہے۔
اقارب اگر امداد کے مستحق ہوں تو ان کی مالی امداد کا ثواب دوسروں کو صدقہ دینے سے زیادہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1835]
Sunan Ibn Majah Hadith 1835 in Urdu
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي