سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ما جاء في فضل النكاح
باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17549، ومصباح الزجاجة: 654) (حسن)» (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2383)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات نماز پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو روزے بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے“۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عيسي بن ميمون المدني ضعيف
و قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح ‘‘ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه
و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب ! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔))
(كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
عيسي بن ميمون المدني ضعيف
و قال البوصيري: ’’ إسناده ضعيف لاتفاقھم علي ضعف عيسي ابن ميمون المديني لكن له شاھد صحيح ‘‘ و حديث البخاري (5063) و مسلم (1401) يغني عنه
و روي أبو داود: ((تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم)) (2050) و سنده حسن و روي البزار عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((يا معشر الشباب ! من استطاع منكم الطول فلينكح أو ليتزوج و إلا فعليه بالصوم فإنه له وجاء۔))
(كشف الاستار 2/ 148 ح 1398) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة أفضل أهل زمانه | |
👤←👥عيسى بن ميمون الواسطي عيسى بن ميمون الواسطي ← القاسم بن محمد التيمي | متروك الحديث | |
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن آدم بن أبي إياس ← عيسى بن ميمون الواسطي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن الأزهر العبدي، أبو الأزهر أحمد بن الأزهر العبدي ← آدم بن أبي إياس | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1846
| النكاح من سنتي فمن لم يعمل بسنتي فليس مني تزوجوا فإني مكاثر بكم الأمم من كان ذا طول فلينكح ومن لم يجد فعليه بالصيام فإن الصوم له وجاء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1846 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1846
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح میرا طریقہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل و عیال والی زندگی گزارنا اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں وغیرہ کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاں غیر شادی شدہ زندگی گزارنا اور بزعم خویش عبادت وریاضت میں مشغول رہنا افضل اور قابل تعریف سمجھا جاتا ہے۔
نکاح کا ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت کر کے انہیں اسلامی معاشرے کے مفید ارکان بنانا بھی ایک اہم دینی خدمت ہے۔
اور دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دلانے سے خود سیدھی راہ پر گامزن رہنا آسان ہو جاتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے اولاد کی کثرت شرعاً مطلوب ہے لہٰذا اس کے لیے کوشش کرنا یعنی نکاح کرنا اور ازدواجی تعلقات قائم رکھنا بھی شرعا مستحسن ہے۔
نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح میرا طریقہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل و عیال والی زندگی گزارنا اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔
یہود و نصاریٰ اور ہندوؤں وغیرہ کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے ہاں غیر شادی شدہ زندگی گزارنا اور بزعم خویش عبادت وریاضت میں مشغول رہنا افضل اور قابل تعریف سمجھا جاتا ہے۔
نکاح کا ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ اولاد کی صحیح تربیت کر کے انہیں اسلامی معاشرے کے مفید ارکان بنانا بھی ایک اہم دینی خدمت ہے۔
اور دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دلانے سے خود سیدھی راہ پر گامزن رہنا آسان ہو جاتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے اولاد کی کثرت شرعاً مطلوب ہے لہٰذا اس کے لیے کوشش کرنا یعنی نکاح کرنا اور ازدواجی تعلقات قائم رکھنا بھی شرعا مستحسن ہے۔
نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1846]
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق