سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : النظر إلى المرأة إذا أراد أن يتزوجها
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1864]
حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ میں اس (کو دیکھنے) کے لیے چھپ جایا کرتا تھا حتی کہ میں نے اسے کھجوروں کے باغ میں دیکھ لیا۔“ (حاضرین میں سے) کسی نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر بھی ایسا کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے دل میں کسی عورت سے نکاح کی خواہش ڈالے تو اسے دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11228، ومصباح الزجاجة: 664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/493، 4/225) (صحیح)» (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 98)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ ضرورت کے وقت دیکھنا ہے، اور ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ کا عورت کو دیکھنا صحیح اور جائز ہے، اسی طرح طبیب کو علاج کے لئے اس مقام کو دیکھنا درست ہے جہاں دیکھنے کی ضرورت ہو، اہل حدیث، شافعی، ابوحنیفہ، احمد اور اکثر اہل علم کا مذہب یہی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کا دیکھنا جائز ہے، اور امام مالک کہتے ہیں کہ یہ عورت کی اجازت سے صحیح ہے، بغیر اس کی اجازت کے صحیح نہیں، اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ صحیح نہیں ہے، اس باب میں ایک یہ حدیث ہے، دوسری مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے، تیسری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو دیکھا تھا“؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اس کو دیکھ لو، اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ویسا ہی ہوا، اور اس عورت سے خوب موافقت رہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة: ضعيف
وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة: ضعيف
وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1864
| إذا ألقى الله في قلب امرئ خطبة امرأة فلا بأس أن ينظر إليها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1864 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1864
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کی بابت ہمارے فاضل محقق لکھتے ہیں کہ یہ سنداً ضعیف ہے تاہم آگے آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
دیکھیئے:
(الصحیحة، رقم: 98)
(2)
جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اسے ایک نظر دیکھ لینا جائز ہے۔
عورت کا مرد کو دیکھنا بھی جائز ہے۔
اس کے بارے میں اگرچہ کوئی حدیث مروی نہیں تاہم اس مسئلے میں مرد پر قیاس کر کے عورت کے لیے بھی مرد کو دیکھنا جائز کہا جا سکتا ہے۔
ضروری نہیں کہ عورت کو دیکھے جانے کا علم ہو بلکہ اس کی لاعلمی میں بھی موقع پاکر دیکھنا جائز ہے۔
خود دیکھنا ممکن نہ ہو تو کسی قابل اعتماد خاتون کو لڑکی کے گھر بھیجا جائے اور وہ مرد کی پسند نا پسند کو پیش نظر رکھتے ہوئے لڑکی کو دیکھ لے۔
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کی بابت ہمارے فاضل محقق لکھتے ہیں کہ یہ سنداً ضعیف ہے تاہم آگے آنے والی روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
دیکھیئے:
(الصحیحة، رقم: 98)
(2)
جس عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اسے ایک نظر دیکھ لینا جائز ہے۔
عورت کا مرد کو دیکھنا بھی جائز ہے۔
اس کے بارے میں اگرچہ کوئی حدیث مروی نہیں تاہم اس مسئلے میں مرد پر قیاس کر کے عورت کے لیے بھی مرد کو دیکھنا جائز کہا جا سکتا ہے۔
ضروری نہیں کہ عورت کو دیکھے جانے کا علم ہو بلکہ اس کی لاعلمی میں بھی موقع پاکر دیکھنا جائز ہے۔
خود دیکھنا ممکن نہ ہو تو کسی قابل اعتماد خاتون کو لڑکی کے گھر بھیجا جائے اور وہ مرد کی پسند نا پسند کو پیش نظر رکھتے ہوئے لڑکی کو دیکھ لے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1864]
Sunan Ibn Majah Hadith 1864 in Urdu
سهل بن أبي حثمة الأنصاري ← محمد بن مسلمة الأنصاري