سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الوليمة
باب: ولیمہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ، وَلَا خُبْزٌ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1105)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 61 (5159)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، مسند احمد (3/99) (صحیح)» (اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، «کمافی التخریج» )
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (3/ 655،266) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (3/ 655،266) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 448
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← علي بن زيد القرشي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1910
| شهدت للنبي وليمة ما فيها لحم ولا خبز |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1910 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1910
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 19؍18، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1910، وصحیح ابن ماجة للألبانی، حدیث: 1564)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الموسوعة الحدیثة مسند الإمام أحمد: 19؍18، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1910، وصحیح ابن ماجة للألبانی، حدیث: 1564)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1910]
علي بن زيد القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري