سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. باب : الولد للفراش وللعاهر الحجر
باب: بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی۔
حدیث نمبر: 2005
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «فراش» سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں «وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہو گا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہو گا،زانی سے منسوب نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥أبو يزيد المكي، أبو يزيد أبو يزيد المكي ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥عبيد الله بن أبي يزيد المكي عبيد الله بن أبي يزيد المكي ← أبو يزيد المكي | ثقة كثير الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبيد الله بن أبي يزيد المكي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2005
| الولد للفراش |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2005 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2005
اردو حاشہ:
فائدہ:
بستر والےسے مراد عورت کا شوہر یا لونڈی کا مالک ہے۔
بیٹا اسی کا شمار کیا جائے گا اور وراثت وغیرہ کا تعلق بھی اسی سے ہوگا، نہ کہ اس مرد سے جس کے ناجائز تعلق کے نتیجے میں وہ پیداہوا۔
فائدہ:
بستر والےسے مراد عورت کا شوہر یا لونڈی کا مالک ہے۔
بیٹا اسی کا شمار کیا جائے گا اور وراثت وغیرہ کا تعلق بھی اسی سے ہوگا، نہ کہ اس مرد سے جس کے ناجائز تعلق کے نتیجے میں وہ پیداہوا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2005]
أبو يزيد المكي ← عمر بن الخطاب العدوي