🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : كراهية الخلع للمرأة
باب: (بغیر کسی شرعی سبب کے) عورت کا خلع کا مطالبہ مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الطلاق 18 (2226)، سنن الترمذی/الطلاق 11 (1187)، (تحفة الأشراف: 2103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/277، 283)، سنن الدارمی/الطلاق 6 (2316) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن مرثد الرحبي، أبو أسماء
Newعمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عمرو بن مرثد الرحبي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
👤←👥أحمد بن الأزهر العبدي، أبو الأزهر
Newأحمد بن الأزهر العبدي ← محمد بن الفضل السدوسي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1187
أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة
سنن أبي داود
2226
أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
سنن ابن ماجه
2055
أيما امرأة سألت زوجها الطلاق في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2055 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2055
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  خلع کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنا سارا یا کچھ حق مہر خاوند کو دے کر اس سے طلاق لے لے۔
خاوند کے لیے جائز نہیں کہ جتنا مال اسے دے چکا ہے، یا جتنا حق مہر مقرر ہوا ہے اس سے زیادہ کا مطالبہ کرے۔

(2)
  خلع کی اس صورت میں جائز ہے جب عورت اس مرد کےنکاح میں نہ رہنا چاہتی ہواور مرد اسے صحیح طریقے سے بسانے کی خواہش مند ہو۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر بیوی کو تنگ کرتا ہے تاکہ وہ مجبور ہو کر خلع پرراضی ہوجائے تو یہ مرد کا عورت پر ظلم ہے۔

(3)
عورت کے لیے جائز نہیں کہ کسی معقول وجہ کے بغیر خاوند سے طلاق لینے کی کوشش کرے۔

(4)
  اگر عورت واقعی یہ محسوس کرتی ہو کہ اس کااس مرد کے ساتھ نباہ مشکل ہے تو خلع لینا جائز ہے، تاہم جس طرح مرد کو حتی الوسع طلاق سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے، اسی طرح عورت کو چاہیے کہ جہاں تک خلع سےبچ کر گھر بسانا ممکن ہو، اس کی کوشش کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2055]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2226
خلع کا بیان۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2226]
فوائد ومسائل:
اگر زوجین میں ہم آہنگی نہ رہے اور شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے پر راضی نہ ہو جب کہ عورت اس کے پاس رہنے کے لیے تیار نہ ہو بلکہ علیحدگی پر مصر ہوتو اپنا معاملہ قاضی کے سامنے پیش کرے۔
وہ احوال واقعی کے پیش نظر عورت کے مطالبہء علیحدگی کی بناء پر عورت سے کہے کہ اپنا حق مہر واپس کرے اور پھر وہ انکے مابین عقد نکاح کو فسخ کردے۔
تو علیحدگی کی اس کیفیت کو خلع کہتے ہیں۔
طلاق شوہر کی طرف سے ہوتی ہے اور خلع میں مطالبہ بیوی کی طرف سے ہوتا ہے۔
اور قاضی اپنے فیصلہ تنسیخ کی تنفیذ کراتا ہے۔
خلع میں عدت صرف ایک حیض ہے۔
کیونکہ یہ فسخ نکاح ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2226]