سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : الاقتصاد في طلب المعيشة
باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناؤ اس لیے کہ جس چیز کے لیے آدمی پیدا کیا گیا ہے وہ اسے مل کر رہے گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11894، ومصباح الزجاجة: 757) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 898- 2607- 2607)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کمانے کے چکر میں زیادہ نہ پڑو، آدمی کے مقدر (قسمت) میں جو چیز اللہ تعالی نے لکھ دی ہے، وہ اسے مل کر رہے گی، تو بے اعتدالی اور ظلم کی کوئی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن سعد الساعدي، أبو حميد | صحابي | |
👤←👥عبد الملك بن سعيد الأنصاري عبد الملك بن سعيد الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥ربيعة الرأي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن ربيعة الرأي ← عبد الملك بن سعيد الأنصاري | ثقة | |
👤←👥عمارة بن غزية الأنصاري عمارة بن غزية الأنصاري ← ربيعة الرأي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← عمارة بن غزية الأنصاري | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2142
| أجملوا في طلب الدنيا كلا ميسر لما خلق له |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2142 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2142
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کمانے کے لیے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حلال کمانے کی کوشش کرو اور اس میں ہمہ تن مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخرت کی طرف توجہ نہ رہے، یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرو۔
(2)
جو روزی قسمت میں لکھى ہوئی ہے، وہ حلال راستہ اختیار کرنے سے بھی مل ہی جائے گی، پھر ناجائز اور حرام راستے سے تلاش کرنے کا کیا فائدہ؟
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کمانے کے لیے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حلال کمانے کی کوشش کرو اور اس میں ہمہ تن مشغول نہ ہو جاؤ کہ آخرت کی طرف توجہ نہ رہے، یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرو۔
(2)
جو روزی قسمت میں لکھى ہوئی ہے، وہ حلال راستہ اختیار کرنے سے بھی مل ہی جائے گی، پھر ناجائز اور حرام راستے سے تلاش کرنے کا کیا فائدہ؟
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2142]
عبد الملك بن سعيد الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي