🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : الأجر على تعليم القرآن
باب: قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَرَدَدْتُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 69، ومصباح الزجاجة: 758) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1493)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية بن قيس الكلاعي عن أبي بن كعب مرسل (جامع التحصيل ص 239)
و الحديث السابق (الأصل: 2157) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عطية بن قيس الكلابي، أبو يحيى
Newعطية بن قيس الكلابي ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن سلم
Newعبد الرحمن بن سلم ← عطية بن قيس الكلابي
مقبول
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← عبد الرحمن بن سلم
ثقة
👤←👥ثور بن يزيد الرحبي، أبو خالد
Newثور بن يزيد الرحبي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت إلا أنه يرى القدر
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← ثور بن يزيد الرحبي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥سهل بن أبي سهل الرازي، أبو عثمان، أبو عمرو
Newسهل بن أبي سهل الرازي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2158
إن أخذتها أخذت قوسا من نار فرددتها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2158 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2158
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محقیقن نے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: 5/ 316، 317، رقم: 1493، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدكتور بشار عواد، حديث: 2158)
اکثر علمائے کرام نے تعلیم قرآن کی تنخواہ لینا جائز قرار دیا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کا نکاح تعلیم قرآن حق مہر قرار دے کر دیا تھا جس کے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے مال نہیں تھا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحيح البخاري، النكاح، باب النظر إلي المرأة قبل التزويج، حديث: 5126)
حالانکہ حق مہر بنیادی طور پر مال ہونا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء 24: 4)
تم اپنے مالوں کے ساتھ (نکاح)
طلب کرو۔
 اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن کو مال کا متبادل قرار دیا جاسکتا ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث سے استدلال کا جواب یہ ہے کہ تعلیم دیتے وقت ان کا ارادہ احسان اور حصول ثواب کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توجہ دلائی کہ کمان وصول کر کے اپنا ثواب ضائع نہ کریں، خاص طور پر جب کہ یہ کمان اہل صفہ سے لی جارہی تھی جو اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں صدقہ دیا جائے نہ کہ ان سے کچھ وصول کیا جائے، اس لیے ان سے وصول کرنا خلاف مروت اور مکروہ تھا۔ دیکھیے: (سبل السلام شرح بلوغ المرام، البیوع، باب المساقة والإجارة، حديث: 7)

(2)
  حضرت ابن عباس سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سب کا موں سے زیادہ اجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے۔ (صحيح البخاري، الإجارة، باب ما يعطي في الرقية علي أحياء العرب بفاتحة الكتاب، حديث: 2276)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس طرح باب کا عنوان مقرر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب دم کرکے اجرت لینا جائز ہے تو تعلیم قرآن میں تو محنت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان کے نزدیک اس پر تنخواہ لینا بالا ولیٰ جائز ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2158]