سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : الأجر على تعليم القرآن
باب: قرآن کریم کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَرَدَدْتُهَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی“، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 69، ومصباح الزجاجة: 758) (صحیح)» (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1493)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية بن قيس الكلاعي عن أبي بن كعب مرسل (جامع التحصيل ص 239)
و الحديث السابق (الأصل: 2157) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
إسناده ضعيف
عطية بن قيس الكلاعي عن أبي بن كعب مرسل (جامع التحصيل ص 239)
و الحديث السابق (الأصل: 2157) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 456
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2158
| إن أخذتها أخذت قوسا من نار فرددتها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2158 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2158
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محقیقن نے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: 5/ 316، 317، رقم: 1493، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدكتور بشار عواد، حديث: 2158)
اکثر علمائے کرام نے تعلیم قرآن کی تنخواہ لینا جائز قرار دیا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کا نکاح تعلیم قرآن حق مہر قرار دے کر دیا تھا جس کے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے مال نہیں تھا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحيح البخاري، النكاح، باب النظر إلي المرأة قبل التزويج، حديث: 5126)
حالانکہ حق مہر بنیادی طور پر مال ہونا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء 24: 4)
”تم اپنے مالوں کے ساتھ (نکاح)
طلب کرو۔“
اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن کو مال کا متبادل قرار دیا جاسکتا ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث سے استدلال کا جواب یہ ہے کہ تعلیم دیتے وقت ان کا ارادہ احسان اور حصول ثواب کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توجہ دلائی کہ کمان وصول کر کے اپنا ثواب ضائع نہ کریں، خاص طور پر جب کہ یہ کمان اہل صفہ سے لی جارہی تھی جو اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں صدقہ دیا جائے نہ کہ ان سے کچھ وصول کیا جائے، اس لیے ان سے وصول کرنا خلاف مروت اور مکروہ تھا۔ دیکھیے: (سبل السلام شرح بلوغ المرام، البیوع، باب المساقة والإجارة، حديث: 7)
(2)
حضرت ابن عباس سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سب کا موں سے زیادہ اجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے۔“ (صحيح البخاري، الإجارة، باب ما يعطي في الرقية علي أحياء العرب بفاتحة الكتاب، حديث: 2276)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس طرح باب کا عنوان مقرر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب دم کرکے اجرت لینا جائز ہے تو تعلیم قرآن میں تو محنت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان کے نزدیک اس پر تنخواہ لینا بالا ولیٰ جائز ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محقیقن نے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (إرواء الغلیل: 5/ 316، 317، رقم: 1493، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدكتور بشار عواد، حديث: 2158)
اکثر علمائے کرام نے تعلیم قرآن کی تنخواہ لینا جائز قرار دیا ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کا نکاح تعلیم قرآن حق مہر قرار دے کر دیا تھا جس کے پاس مہر کی ادائیگی کے لیے مال نہیں تھا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحيح البخاري، النكاح، باب النظر إلي المرأة قبل التزويج، حديث: 5126)
حالانکہ حق مہر بنیادی طور پر مال ہونا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ﴾ (النساء 24: 4)
”تم اپنے مالوں کے ساتھ (نکاح)
طلب کرو۔“
اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن کو مال کا متبادل قرار دیا جاسکتا ہے۔
حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث سے استدلال کا جواب یہ ہے کہ تعلیم دیتے وقت ان کا ارادہ احسان اور حصول ثواب کا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توجہ دلائی کہ کمان وصول کر کے اپنا ثواب ضائع نہ کریں، خاص طور پر جب کہ یہ کمان اہل صفہ سے لی جارہی تھی جو اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں صدقہ دیا جائے نہ کہ ان سے کچھ وصول کیا جائے، اس لیے ان سے وصول کرنا خلاف مروت اور مکروہ تھا۔ دیکھیے: (سبل السلام شرح بلوغ المرام، البیوع، باب المساقة والإجارة، حديث: 7)
(2)
حضرت ابن عباس سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سب کا موں سے زیادہ اجرت لینے کے لائق اللہ کی کتاب ہے۔“ (صحيح البخاري، الإجارة، باب ما يعطي في الرقية علي أحياء العرب بفاتحة الكتاب، حديث: 2276)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اس طرح باب کا عنوان مقرر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ واضح کر رہے ہیں کہ جب دم کرکے اجرت لینا جائز ہے تو تعلیم قرآن میں تو محنت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان کے نزدیک اس پر تنخواہ لینا بالا ولیٰ جائز ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2158]
عطية بن قيس الكلابي ← أبي بن كعب الأنصاري