سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : ما جاء في كراهية الأيمان في الشراء والبيع
باب: خرید و فروخت میں حلف اٹھانے اور قسمیں کھانے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع (خرید و فروخت) میں قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے اور برکت جاتی رہتی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2209]
حضرت ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فروخت کرتے وقت قسم کھانے سے اجتناب کرو، یہ سودے میں رغبت پیدا کرتی ہے (جس سے پہلے پہل سودا زیادہ بکتا ہے)، پھر برکت ختم کر دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 27 (1607)، سنن النسائی/البیوع 5 (4465)، (تحفة الأشراف: 12129)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/297، 298، 301) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4126
| إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق |
سنن ابن ماجه |
2209
| إياكم والحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق |
سنن النسائى الصغرى |
4465
| إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2209 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2209
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سچی قسمیں بھی کم سے کم ہی کھانا مناسب ہے۔
سامان بیچنے کے لیے بلا ضرورت قسمیں کھاتے چلے جانا اچھی عادت نہیں۔
(2)
حدیث کے الفاظ:
(فَإِنَّهُ يُنْفِقُ ثُمَّ يَمْحَقُ)
کا یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے پہلے سودا زیادہ بکتا ہے کیونکہ لوگ اس کی قسموں سے متاثر ہو جاتے ہیں، بعد میں جب حقیقت کھل جاتی ہے کہ قسمیں کھانا تو اس کی عادت ہے تو پھر اس سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کا کاروبار پہلے بھی کم ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے سودا لینے سے اجتناب کرنے لگتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
سچی قسمیں بھی کم سے کم ہی کھانا مناسب ہے۔
سامان بیچنے کے لیے بلا ضرورت قسمیں کھاتے چلے جانا اچھی عادت نہیں۔
(2)
حدیث کے الفاظ:
(فَإِنَّهُ يُنْفِقُ ثُمَّ يَمْحَقُ)
کا یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے پہلے سودا زیادہ بکتا ہے کیونکہ لوگ اس کی قسموں سے متاثر ہو جاتے ہیں، بعد میں جب حقیقت کھل جاتی ہے کہ قسمیں کھانا تو اس کی عادت ہے تو پھر اس سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کا کاروبار پہلے بھی کم ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے سودا لینے سے اجتناب کرنے لگتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2209]
Sunan Ibn Majah Hadith 2209 in Urdu
محمد بن كعب الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي