🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : من قال لا ربا إلا في النسيئة
باب: سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي، وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ".
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/48، 51) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بیع صرف: جب مال برابر نہ ہو یا نقدا نقد نہ ہو، تو وہ بیع صرف کہلاتا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث سنتے ہی اپنی رائے سے پھر گئے، اور رائے کو ترک کر دیا، اور حدیث پر عمل کر لیا، لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی نہیں کرتے، اور ایک حدیث کیا بہت ساری احادیث سن کر بھی اپنے مجتہد کا قول ترک نہیں کرتے، حالانکہ ان کا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے کبھی صواب۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو سعيد الخدري
صحابي
👤←👥أوس بن عبد الله الربعي، أبو الجوزاء
Newأوس بن عبد الله الربعي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سليمان بن علي الربعي، أبو عكاشة
Newسليمان بن علي الربعي ← أوس بن عبد الله الربعي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← سليمان بن علي الربعي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2258
نهى عن الصرف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2258 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2258
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیع صرف کا مطلب، سونے کا چاندی سے یا چاندی کا سونے سے یا ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہے۔

(2)
ایک ملک کی کرنسی ایک جنس ہے، دوسرے ملک کی کرنسی دوسری جنس ہے اگرچہ ان کا نام ایک ہی ہو، مثلاً:
پاکستانی روپیہ اور بھارتی روپیہ الگ الگ جنسیں ہیں۔

(3)
اس پر اتفاق ہے کہ مختلف اجناس کی کرنسی کے تبادلے میں ایک طرف سے نقد ادائیگی اور دوسری طرف سے ادائیگی کا وعدہ ناجائز ہے بلکہ دونوں طرف سے نقد ادائیگی شرط ہے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اگر جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی نہ کی جائے۔

(4)
مسئلے میں غلطی معلوم ہونے پر رجوع کرلینا عالم کی شان ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2258]