سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ : مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا
باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ:" لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، اس لیے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 233]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”جو شخص حاضر ہے، وہ غیر موجود تک (میری یہ باتیں) پہنچا دے۔ بعض اوقات جس شخص کو بات پہنچائی جاتی ہے، وہ (براہِ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11691)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحي 5 (5550)، صحیح مسلم/القسامة 9 (1679)، مسند احمد (5/37، 39، 45، 94)، سنن الدارمی/المناسک 72 (1957) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح من دون فإنه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
233
| ليبلغ الشاهد الغائب رب مبلغ يبلغه أوعى له من سامع |
Sunan Ibn Majah Hadith 233 in Urdu
اسم مبهم ← نفيع بن مسروح الثقفي